اقوام متحدہ ۔24نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ بڑھتی عالمی معاشی تفریق کے باعث 44 غریب ترین ممالک کے لیے نئے صنعتی معاہدے کی ضرورت ہے جبکہ ان ممالک کے وزرا و رہنماؤں نے صنعتی ترقی اور عالمی چیلنجوں کے مقابلے میں خود کو زیادہ مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں لیس ڈویلپڈ کنٹریز ( ایل ڈی سیز) کی گیارہویں …
بڑھتی عالمی معاشی تفریق کے باعث 44 غریب ترین ممالک کے لیے نئے صنعتی معاہدے کی ضرورت ہے ،اقوامِ متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔24نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ بڑھتی عالمی معاشی تفریق کے باعث 44 غریب ترین ممالک کے لیے نئے صنعتی معاہدے کی ضرورت ہے جبکہ ان ممالک کے وزرا و رہنماؤں نے صنعتی ترقی اور عالمی چیلنجوں کے مقابلے میں خود کو زیادہ مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں لیس ڈویلپڈ کنٹریز ( ایل ڈی سیز) کی گیارہویں وزارتی کانفرنس کے دوران وزرا نے زور دیا کہ صنعتی ترقی ہی پائیدار معیشت، روزگار اور دیرپا استحکام کی بنیاد ہے۔
سوڈان کے وزیرِ صنعت و تجارت کے مشیر باشر عبداللہ نے کانفرنس میں کہا کہ پہلے ہمیں جنگ ختم کرنی ہےپھر دوبارہ فیکٹریاں چلانی ہیں۔سوڈان سمیت کئی غریب ممالک میں معاشی ترقی جاری تنازعات سے بری طرح متاثر ہوئی ہے، تاہم یواین آئی ڈی او جنگ کے دوران بھی معاشی بحالی کے لیے معاونت فراہم کر رہا ہے۔کانفرنس میں جمع ہونے والے وزراجو ایشیا، افریقا اور کیریبین کے غریب ترین ممالک کی نمائندگی کر رہے تھے،نے اس حقیقت پر زور دیا کہ ان کی ریاستیں دنیا کے سب سے کمزور اور حساس ممالک میں شامل ہیں۔افتتاحی خطاب میں یواین آئی ڈی او کے ڈائریکٹر جنرل گیرڈ ملر نے کہا کہ دنیا کو صنعتی ترقی کے حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا، صنعتی ترقی پائیدار ترقی کے 17 اہداف کے حصول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو عالمی یکجہتی اور کثیرالجہتی تعاون کا انتخاب کرنا ہوگا تاکہ امیر اور غریب ممالک کے درمیان بڑھتا فرق مزید وسیع نہ ہو۔انہوں نے توجہ دلائی کہ 2000 سے 2024 تک دنیا کی امیر ترین ایک فیصد آبادی کی دولت میں 41 فیصد جبکہ دنیا کی نصف غریب آبادی کی دولت میں صرف 1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایل ڈی سیز موسمیاتی بحران، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی امداد میں کمی جیسے جھٹکوں کے سامنے نہایت کمزور ہیں اور ایسی صورتحال سے ٹیکسٹائل، چمڑے، زراعت اور آلات سازی جیسے اہم شعبوں میں شدید نقصانات کا اندیشہ ہے۔
یواین آئی ڈی او نے بتایا کہ اس کا مشن ممالک کو ان جھٹکوں سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں تربیتی پروگراموں نے گارمنٹ فیکٹریوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مدد کی جس سے لاکھوں خواتین کو ملازمت ملی،نیپال میں نوجوانوں کو ڈیجیٹل اور کوڈنگ کی تربیت دے کر ڈیجیٹل خلیج کم کی جارہی ہے جبکہ سوڈان میں ا دارہ چھوٹے کسانوں، کاروباری افراد، نوجوانوں اور خواتین کو مالی رسائی اور کاروبار کی بحالی میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔
اس کانفرنس کے دوران دو اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی جن میں ٹیکنالوجی اور مہارت کی منتقلی پر مبنی یواین آئی ڈی او کی معاونت بڑھانے کے لیے رہنما اصول،صنعتوں کی جدید کاری، مالی وسائل کی فراہمی اور باہمی تعاون بڑھانے کے لیے وزارتی سطح پر عزم کا اعادہ شامل ہیں ۔ ریاض میں کیے گئے عہد ترقی کی اُس سمت ایک مضبوط قدم ہیں جہاں دنیا کے سب سے کمزور ممالک عالمی معیشت میں مؤثر اور پائیدار کردار ادا کر سکیں۔








