وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے پاکستان میں جمہوریہ قازقستان کے سفیر یرژان کستافین نے جمعہ کے روز ان کے دفتر میں الوداعی ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان ثقافت، ورثہ، تعلیم اور عوامی روابط کے فروغ سمیت دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے قازقستان کے سفیر یرژان کستافین کی الوداعی ملاقات، دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے پاکستان میں جمہوریہ قازقستان کے سفیر یرژان کستافین نے جمعہ کے روز ان کے دفتر میں الوداعی ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان ثقافت، ورثہ، تعلیم اور عوامی روابط کے فروغ سمیت دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور قازقستان کے درمیان ثقافتی تعلقات کے فروغ میں ان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان قائم ہونے والا قریبی تعاون سفیر کے جانشین کے دور میں بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔سفیر یرژان کستافین نے پاکستان، قازقستان اور وسطی ایشیا کے ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان مضبوط روابط کو مزید فعال اور مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سال پاکستان اور قازقستان کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز ہوگا جس سے سیاحت، تجارت اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کے لیے قازقستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی تعلیمی وظائف (سکالرشپس) کا بھی ذکر کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے کے مطابق آئندہ سال وزیراعظم پاکستان کے متوقع دورہ قازقستان سے دوطرفہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی اور تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔سفیر نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں اوپیرا تھیٹر، بیلے تھیٹر اور نیشنل تھیٹر سمیت متعدد عالمی شہرت یافتہ ثقافتی ادارے موجود ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ وزیراعظم پاکستان کے متوقع دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے فنکاروں کی مشترکہ ثقافتی پرفارمنسز کا اہتمام کیا جائے جو پاکستان اور قازقستان کی مضبوط ثقافتی شراکت داری کی علامت ہوں گی۔ انہوں نے وفاقی وزیر اور ان کے وفد کو قازقستان کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ ثقافتی تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے عوامی روابط اور ثقافتی سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اور اس کے ذیلی ادارے، خصوصاً لوک ورثہ، قازقستان کے سفارت خانے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ وزیراعظم پاکستان کی رہنمائی میں دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات مزید مستحکم ہوں۔ وفاقی وزیر نے سفیر کو آگاہ کیا کہ پاکستانی ثقافتی وفد سے متعلق سفارشات کی منظوری دی جا چکی ہے۔ وفد میں ایک موسیقی کے استاد، ایک محقق اور دو سازندے شامل ہوں گے جو تدریسی خدمات بھی انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قازقستان کی جانب سے باضابطہ دعوت نامے کا منتظر ہے تاکہ ضروری انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔سفیر یرژان کستافین نے بتایا کہ قازقستان نے ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل ایک جامع مشترکہ ایکشن پلان تیار کیا ہے جو قازقستان کے کسی بھی شراکت دار ملک کے ساتھ تیار کیے گئے جامع ترین منصوبوں میں سے ایک ہے اور دونوں ممالک کے ثقافتی تعاون کے فروغ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے ساتھ فوری رابطے اور عملی اقدامات شروع کرنے کی ہدایت کی تاکہ وزیراعظم پاکستان کے متوقع دورہ قازقستان کے دوران ان منصوبوں پر موثر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کے سالانہ ثقافتی میلے لوک میلہ میں قازقستان کے فنکاروں اور ثقافتی وفود کی شرکت کی دعوت بھی دی۔ سفیر نے اس دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قازقستان ماضی میں بھی لوک میلہ میں شرکت کر چکا ہے اور مستقبل میں اس ثقافتی تبادلے کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے قازقستان میں پاکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے پر مبنی خصوصی نمائش منعقد کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس نمائش میں آثار قدیمہ، روایتی فن پارے، تصاویر اور آڈیو ویژول مواد کے ذریعے پاکستان کی تاریخ، جغرافیہ اور ثقافتی تنوع کو اجاگر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائش پاکستان کو قدیم تہذیبوں کی سرزمین کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرے گی جس میں گندھارا تہذیب، وادی سندھ کی تہذیب، اسلامی تہذیب اور مختلف مذاہب کے ثقافتی ورثے کو نمایاں کیا جائے گا۔سفیر یرژان کستافین نے اس تجویز کو سراہتے ہوئے اسے ایک بہترین اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس سے عالمی برادری کو پاکستان کے عظیم ثقافتی ورثے سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی، دوستی اور باہمی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنمائوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان ثقافتی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا اور مشترکہ ایکشن پلان میں شامل اقدامات پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے عوام اس تعاون سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔








