سندھ طاس معاہدہ علاقائی آبی سلامتی اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و استحکام کی بنیاد ہے، مخدوم سید مرتضی محمود

سابق وفاقی وزیر صنعت وتجارت مخدوم سید مرتضی محمود ایم این اے(ستارہ امتیاز) نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم، علاقائی آبی سلامتی، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و استحکام کی بنیاد ہے

لاہور۔7اگست (اے پی پی):سابق وفاقی وزیر صنعت وتجارت مخدوم سید مرتضی محمود ایم این اے(ستارہ امتیاز) نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم، علاقائی آبی سلامتی، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و استحکام کی بنیاد ہے۔انہوں نے جمعہ کو اے پی پی سے گفتگو کے دوران کہا کہ سندھ طاس معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا ایک انتظامی فریم ورک نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی، تنازعات کے پرامن حل اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کی ایک مضبوط ضمانت بھی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران سیاسی اختلافات، کشیدگی اور مختلف بحرانوں کے باوجود یہ معاہدہ اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے، جو اس کی قانونی مضبوطی اور بین الاقوامی حیثیت کا واضح ثبوت ہے۔ اس معاہدے کے مکمل اور بلا تعطل نفاذ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے کیونکہ یہی خطے میں آبی تنازعات کے منصفانہ اور پائیدار حل کی بنیاد ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا واضح اور دوٹوک موقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی قانونی معاہدہ ہے جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا غیر موثر نہیں بنا سکتا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ایسے معاہدوں کی پاسداری تمام متعلقہ فریقوں کی ذمہ داری ہے اور ان سے انحراف عالمی قوانین اور ریاستوں کے درمیان طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی قانونی پیش رفت اور ثالثی عدالت کے فیصلے نے بھی اس اصول کی توثیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اس سے متعلق تمام اختلافات کو معاہدے میں درج قانونی، تکنیکی اور سفارتی طریقہ کار کے مطابق ہی حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین، سفارتی روایات اور معاہدوں کے احترام کی پالیسی اپنائی ہے اور مستقبل میں بھی اسی اصولی موقف پر قائم رہے گا۔پانی جیسے بنیادی، حساس اور انسانی بقا سے وابستہ معاملے کو سیاسی دبائو، سفارتی کشیدگی یا کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدامات کا ذریعہ بنانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے بلکہ یہ پورے جنوبی ایشیا کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری، بردباری اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے تمام آبی معاملات کو مذاکرات، تکنیکی رابطوں اور معاہدے میں موجود طریقہ کار کے ذریعے حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی تاریخی، اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدے کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی ادارے بھی اس اہم معاملے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ آبی بحران، علاقائی کشیدگی یا تنازع کو بروقت روکا جا سکے اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، علاقائی استحکام، غذائی تحفظ، زرعی پیداوار، توانائی کے شعبے کی ترقی، اقتصادی خوشحالی اور لاکھوں افراد کے روزگار کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی قومی آبی مفادات کے تحفظ، سندھ طاس معاہدے کے موثر نفاذ اور پاکستان کے قانونی و سفارتی موقف کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنی کوششیں مستقبل میں بھی پوری ذمہ داری اور سنجیدگی سے جاری رکھے گی۔

مزید خبریں