اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر فیڈرل ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس بڑا تاریخی اقدام اور پیش رفت ہے، بڑھتی ہوئی آبادی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس پر قابو پانا ناگزیر ہو چکا ہے، پاپولیشن فنڈکا قیام بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار …
بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر فیڈرل ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس بڑا تاریخی اقدام اور پیش رفت ہے،ڈاکٹر ظفر مرزا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر فیڈرل ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس بڑا تاریخی اقدام اور پیش رفت ہے، بڑھتی ہوئی آبادی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس پر قابو پانا ناگزیر ہو چکا ہے، پاپولیشن فنڈکا قیام بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو فیڈرل ٹاسک فورس کے پہلا اجلاس کے بعد اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کا اجلاس صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت منعقد ہوا،بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر فیڈرل ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس بڑا تاریخی اقدام اور اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس پر قابو پانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اجلاس کا ایجنڈا سی سی آئی کے فیصلے کی ہدایت پر تیار کیے گیے قومی بیانیہ اور لائحہ عمل کی منظوری دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاپولیشن فنڈکا قیام بھی ایجنڈے میں شامل تھا۔اجلاس میں پاپولیشن فنڈ کے قیام کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈ میں صوبوں کیلئے مانع حمل اشیاء کی خریداری کیلئے 50 فیصد اضافی فنڈز مختص کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ظفرمرزانے کہا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا گنجان آباد ملک ہے جس کی آبادی 207.8 ملین ہے اور 1998ءسے لے کر 2017ءکے درمیان آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.4 فی صد رہی ہے جو دیگر ممالک کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبادی کی شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو پاکستان کی آبادی آئندہ 30 سالوں میں دو گنا ہو جائے گی۔ معاون خصوصی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے اپنے پہلے اجلاس میں وزارت صحت کو قابل عمل سفارشات کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی تھی اور وزارت صحت نے ان ہدایت کی روشنی میں ٹائم لائن بجٹ اور دیگر شراکت داروں کی مشاورت سے لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزیرائے اعلی اور فیڈرل ٹاسک فورس کے ریگولر اراکین نے شرکت کی ہے اور فیڈرل ٹاسک فورس کا آئندہ اہم اجلاس ایک ماہ بعد جنوری کے آخر میں منعقد ہو گا۔







