بھارتی آبی دہشت گردی سے پنجاب کا جنگلی حیات بھی شدید متاثر ہوسکتی ہے، محمد رمضان

بھارت کی جانب سے آبی دہشت گردی نہ صرف پاکستان کی معیشت اور زرعی شعبے کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے بلکہ اس کے ماحولیاتی اثرات بھی انتہائی گہرے ہو سکتے ہیں۔

لاہور۔12جولائی (اے پی پی):بھارت کی جانب سے آبی دہشت گردی نہ صرف پاکستان کی معیشت اور زرعی شعبے کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے بلکہ اس کے ماحولیاتی اثرات بھی انتہائی گہرے ہو سکتے ہیں۔ ترجمان محکمہ جنگلی حیات محمد رمضان نے” اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر دریاوں کے قدرتی بہا ومیں نمایاں اور طویل المدتی تبدیلی آتی ہے تو اس کے اثرات صرف زراعت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جنگلات، آبی حیات، جنگلی جانوروں، مہاجر آبی پرندوں، زیرِ زمین پانی، دلدلی علاقوں (ویٹ لینڈز) اور مجموعی ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) بھی بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کے دریاوں میں پانی کی نمایاں اور طویل المدتی کمی واقع ہو جائے تو صوبے کی جنگلی حیات سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہے،جنگلات اور جنگلی حیات کے متاثر ہونے سے پورا ایکو سسٹم متاثر ہوگا،پانی کی مسلسل کمی سے پنجاب کے ویٹ لینڈز، دریائی جنگلات اور آبی ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہوں گے، جس کے نتیجے میں جنگلی جانور اور پرندے خوراک اور پانی کی تلاش میں انسانی آبادیوں اور زرعی علاقوں کا رخ کریں گے جس جنگلی حیات کے ساتھ انسانی آبادی پر بھی ان کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پنجاب آنے والے مختلف اقسام کے مہاجر آبی پرندے بھی بھارتی آبی دہشت گردی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان میں مختلف اقسام کی مرغابیاں، حواصل، مگھ، قاز، کونجیں، فلیمنگوز، سارس، چمچ چونچ، بگلے اور جل مرغیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام پرندے پنجاب کے ویٹ لینڈز، دریاوں، جھیلوں اور بیراجوں پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ بھارتی آبی دہشت گردی سے آبی جانور بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں انڈس ڈولفن اور اود بلا جیسے نایاب جانور شامل ہیں، جن کی بقا کا انحصار دریاوں میں پانی کے قدرتی بہاو پر ہے۔انہوں نے کہا کہ خشکی کے جنگلی جانوروں میں جنگلی سور، گیدڑ، جنگلی بلی، سیہہ اور خرگوش بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگلات میں پانی اور خوراک کی کمی کے باعث ان جانوروں کی بقا کو خطرات لاحق ہوں گے اور وہ خوراک اور پانی کی تلاش میں زرعی علاقوں کا رخ کریں گے، جس سے فصلوں کو نقصان پہنچنے اور انسان و جنگلی حیات کے درمیان تصادم کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نہروں اور دریاوں کے کناروں پر موجود جھاڑیوں اور سرکنڈوں کے ختم ہونے سے جنگلی بلیوں کی قدرتی رہائش گاہیں بھی متاثر ہوںگی۔ترجمان نے کہا کہ رینگنے والے جانوروں میں گوہ، کچھوے، اژدھے اور مختلف اقسام کے آبی سانپ بھی متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی افزائش اور رہائش گاہیں نہروں، تالابوں اور دلدلی علاقوں سے وابستہ ہیں، جو پانی کی کمی کے باعث متاثر ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں دریائے چناب، دریائے راوی، دریائے ستلج، دریائے جہلم، دریائے سندھ سے ملحقہ پنجاب کے علاقے، تونسہ بیراج، پنجند، ہیڈ تریموں، ہیڈ قادرآباد، ہیڈ بلوکی، ہیڈ اسلام اور دیگر ویٹ لینڈز شامل ہیں۔واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا۔، جس کے تحت مغربی دریاوں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو دیا گیا، جبکہ بھارت کو مشرقی دریاوں راوی، ستلج اور بیاس پر حقوق حاصل ہوئے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور آبی دہشت گردی نہ صرف پاکستان کی معیشت اور زرعی شعبے بلکہ جنگلات، جنگلی حیات، حیاتیاتی تنوع اور مجموعی ایکو سسٹم کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی ماحولیاتی نظام تک پہنچ سکتے ہیں۔