بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف تشددکو اکسانے،نفرت پھیلانے،امتیازی سلوک کی اجازت دے رہی ہے ، اقوام متحدہ کے مذہب اور عقیدے کی آزادی پر خصوصی ماہر کی اپنی رپورٹ میں بھارت کی مذمت

جنیوا۔11مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہر نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بھارتی ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت مسلمانوں کے خلاف تشددکو اکسانے کی مخفی اجازت دے رہی ہے جس کے تحت بھارت …

جنیوا۔11مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہر نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بھارتی ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت مسلمانوں کے خلاف تشددکو اکسانے کی مخفی اجازت دے رہی ہے جس کے تحت بھارت میں اقلیتوں کو نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مذہب اور عقیدے کی آزادی پر خصوصی ماہراحمد شہید نے گزشتہ روز جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں مذہبی اور عقیدے کے حقوق پر مبنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہےکہ بھارت میں اقلیتوں کوعدم تحفظ اور تصادم کے حالات درپیش ہیں۔ بھارت نے کو ئی ٹھوس دلائل پیش کیے بغیر اقو ام متحدہ کے ماہر کی رپورٹ کو مسترد کر د یا ۔

جنیوا میں اقوام متحدہ د فتر میں پا کستان کے مستقل نما ئندہ خلیل ہاشمی نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے ماہر سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال پر نظر رکھیں اوراس حوالے سے خاص طور پر کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت بارے رپورٹنگ جاری رکھیں ۔

اقوام متحدہ کے ماہر ،خصوصی رپورٹر احمد شہید نے کہا کہ بھارتی حکام نے جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ،ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور عصمت دری کے معاملے میں استثنیٰ کوختم نہیں کیا اور انہوں نے احتساب کو روکنے اور متاثرین کی علاج تک رسائی کو روکنے کے لیے خصوصی قوانین بنائے ہیں، یہاں تک کہ بھارت نے2019 میں کشمیر کی خصوصی خود مختار حیثیت کے خاتمے سے پہلے ہی سخت لاک ڈاؤن کر کے کشمیریوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں بڑھا دی ہیں اور انٹرنیٹ کی بندش کے ساتھ ساتھ مزید فوجی بھیجے ہیں جس کے باعث کشمیریوں کی وائرس سے خود کو بچانے یا بیرونی مدد حاصل کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے آئین میں متنازع ترامیم کے بعد جموں و کشمیر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران بھارتی مسلح افواج نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کا استعمال کرتے ہوئے کشمیری سیاستدانوں کو گرفتار کیا ہے جس کے تحت کسی کو بغیر کسی الزام یا مقدمے کے دو سال تک قید میں رکھنے کی اجازت دی گئی ہے،ان ترامیم کے تحت بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازعہ ریاست جموں و کشمیر سے الحاق کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں عیسائیوں اور مسلمانوں کو توہین آمیز سلوک اور بدسلوکی کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہدف بنانے کے لیے حالیہ سالوں میں مذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام کے بلوں کی منظوری دی گئی ۔ آن لائن سرگرمیاں بھی ایک دوسرے کو نقصان پہنچا نے کا باعث بن سکتی ہیں جیسے کہ بھارت میں ایسی ویب سائٹس جو مسلم خواتین کی فرضی ‘نیلامیوں’ کو فروغ دیتی ہیں، خاص طور پر وہ خواتین جو سیاست دان ہیں ۔

انہیں عوامی زندگی سےدستبرداری پر مجبور کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف تشدد کو اکسانے کی اجازت دی ہوئی ہے اور یہ کہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے جوڈیشل نوٹس لینے تک بھارتی حکام نے ہندو مذہبی رہنما کی دسمبر 2021 میں جاری کی گئی اس وڈیو کی مذمت نہیں کی جس میں مسلمانوں کی نسل کشی کا مطالبہ کیا گیا ۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے اتحادیوں نے ایسے بیانات کی مذمت نہیں کی جس میں بھارتی رہنما یاتی نارسنگھ آنند گیری کا وہ بیان بھی شامل ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے ہندوئوں کی حوصلہ افزائی کی ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکام نے مسلمان تارکین وطن کو شہریت سے خارج کر دیا اور بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو قومی شہری رجسٹری سے خارج کر دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلمانوں پر الزام عائد کیا گیا کہ مسلمان کورونا وائرس پھیلا رہے ہیں یا وہ متاثرہ کیسز کی شرح میں اضافہ کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر ہش ٹیگ ’’کورونا جہاد ‘‘وائرل ہونے سے یہ ثابت ہو گیا کہ سوشل میڈیا ان سازی نظریات کو پھیلانے کا اہم آلہ ہے۔

بھارتی ریاست کرناٹکا میں عیسائیوں کے خلاف علاقائی دشمنی میں اضافے کے دوران ہسپتالوں،سکولوںسمیت عیسائی تنظیموں کو مردم شماری سروے سے نکالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ بھارتی ڈیلیگیٹ پاون کمار بدھے نےمذہب اور عقیدے کی آزادی پر اقوام متحدہ کے خصوصی ماہر کی رپورٹ کو مسترد کردیا۔

پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ غیر ملکی قبضے کے حالات میں کشمیری مسلمانوں سمیت بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں ، تشدد ظلم و جبر کا سامنا ہےاور قابض حکومتیں مذہب کی بنیاد پر انہیں نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف ظلم و جبر کے جرائم کا جواز پیش کرتی ہیں۔

نام نہاد "حتمی حل”کے تحت جموں و کشمیر پر قابض ملک بھارت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے کو غیر قانونی طور پرآبادی کاری کر رہی ہے، مقامی کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کر رہی ہے اور انہیں ان کے مذہبی، ثقافتی اور لسانی حقوق اور شناخت سے محروم کر رہی ہے۔

مذہبی اجتماعات پر من مانی پابندیوں سے لے کر تدفین کے حقوق پر پابندیاں، کشمیری رہنماؤں اور کارکنوں کی غیر قانونی نظربندیوں سے لے کر کشمیریوں سے وابستہ زبانوں کی حیثیت میں تبدیلی تک اور غیر قانونی اراضی پر قبضے سے لے کر مساجد کی جگہ ہندو مندروں کی تعمیر کے منصوبے تک مقبوضہ علاقے کی "ہندوتواائزیشن” بدستور جاری ہے۔