مودی حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں کے باعث خانہ جنگی کی شکارریاست منی پورمیں پھرنسلی فسادات پھوٹ پڑے
بھارتی ریاست منی پورمیں کشیدگی کی نئی لہر،مودی سرکارحالات پرقابو پانے میں مکمل ناکام
منی پور ۔6جولائی (اے پی پی):مودی حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں کے باعث خانہ جنگی کی شکارریاست منی پورمیں پھرنسلی فسادات پھوٹ پڑے۔بھارت کا اپنا جریدہ’’ٹائمز آف انڈیا ‘‘ منی پورمیں اٹھنےوالے نئے فسادات کی تفصیلات سامنے لے آیا۔بھارتی ریاست منی پور کے ضلع کامجونگ میں پھر تشدد بھڑک اٹھا،نامعلوم حملہ آوروں نے3مقامات پر20گھروں کو آگ لگادی، شرپسندوں نے کوکی کے سرحدی گاؤں فائمول کو نذرِ آتش کردیا،جوابی کارروائی میں ناگا قبائل کے دیہات کو نشانہ بنایا گیا،آتشزدگی کے ان واقعات میں فائمول گاؤں کے 15گھرمکمل جل گئےجبکہ ناگابرادری کے 7گھروں کو جزوی نقصان پہنچا،بھارتی جریدہ کے مطابق ایک اور واقعہ میں حملہ آوروں نے ضلع کامجونگ میں تانگکھول ناگا بستی میں 7گھروں کو آگ لگا دی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منی پور میں فسادات، انسانی حقوق کی پامالیوں اور نقل مکانی کو مودی سرکار کی بدترین ناکامی قراردیدیا۔پروفیسر اجائیلیو نیومائی کے مطابق مودی حکومت کی غفلت سے اٹھنے والا تنازع نوے کی دہائی کی خانہ جنگی سے زیادہ تباہ کن ہے،حالیہ فسادات کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مودی سرکار منی پور میں امن و امان برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔









