سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور بیرسٹر ہادی کی سزا معطلی سے متعلق درخواست پر وفاق سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی۔
ایمان مزاری اور بیرسٹر ہادی کی سزا معطلی کیس،سپریم کورٹ کی ہائیکورٹ کو جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت ، سماعت 21 جولائی تک ملتوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور بیرسٹر ہادی کی سزا معطلی سے متعلق درخواست پر وفاق سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے دوران سماعت قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ مقدمہ مقرر کرکے سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کرے۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے دوران ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی ہائی کورٹ کو دو ہفتوں میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دے چکی تھی تاہم اس کے باوجود حکم پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں ہائی کورٹ نے کیس 20 مئی کو مقرر کیا، پھر 4 جون کی تاریخ دی گئی، مگر اس روز کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی اور اس کے بعد آج تک مقدمہ سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ جلد سماعت کے لیے متفرق درخواست بھی دائر کی گئی تاہم وہ بھی واپس کر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری صرف یہ گزارش ہے کہ ہائی کورٹ کیس مقرر کرکے اس کا فیصلہ کرے، چاہے فیصلہ ہمارے خلاف ہی کیوں نہ ہولیکن مقدمہ سنا جائے۔اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ عمومی طور پر سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے عبوری احکامات میں بھی مداخلت نہیں کرتی جبکہ اس مقدمے میں تو ابھی تک ہائی کورٹ نے استغاثہ کو نوٹس بھی جاری نہیں کیے۔عدالت نے بعد ازاں وکیل فیصل صدیقی کی استدعا پر سماعت 21 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے








