بھارتی سفارتکار دفتر خارجہ طلب ، چار مئی کو کنٹرول لائن کے باغ سر سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پراحتجاج

اسلام آباد ۔ 5 مئی (اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے 4 مئی کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے باغ سر سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ منگل کو ترجمان دفتر …

اسلام آباد ۔ 5 مئی (اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے 4 مئی کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے باغ سر سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ منگل کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتجاجی مراسلہ بھارتی سینئر سفارتکار کے حوالہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت و وقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔ بھارت نے رواں سال کے دوران 957 مرتبہ بلااشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافہ سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ ترجمان کے مطابق بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ2003ءکے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے۔ انہوں نے زوردیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یواین ایم او جی آئی پی)کو اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔