نئی دہلی ۔24مارچ (اے پی پی):دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے سینئر حریت رہنما اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو سیاسی بنیادوں پرقائم کئے گئے ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید جبکہ ان کی دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 14 جنوری کوغیر قانونی سرگرمیوں کی …
بھارتی عدالت نے جھوٹے کیس میں آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی دو ساتھیوں کو 30سال قید کی سزا سنادی

مزید خبریں
نئی دہلی ۔24مارچ (اے پی پی):دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے سینئر حریت رہنما اور دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو سیاسی بنیادوں پرقائم کئے گئے ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید جبکہ ان کی دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 14 جنوری کوغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے) کی دفعہ 20، 38 اور 39 کے ساتھ ساتھ تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) نے آسیہ اندرابی پر نام نہاد نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے لیے عمر قید کی استدعا کی تھی تاکہ ریاست کے خلاف سازش کرنے پر سخت ترین سزا دینے کاواضح پیغام جائے۔
ایڈیشنل سیشن جج چندر جیت سنگھ نے آج دلائل سننے کے بعد یہ سزا سنائی۔ آسیہ اندرابی کواپریل 2018 میں این آئی اے نے گرفتارکیاتھا۔بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں کشمیر کی آئرن لیڈی، آسیہ اندرابی کو بھارتی افواج کے ہاتھوں ذہنی، جسمانی اور جذباتی طور پر شکست نہیں دی جا سکی۔ وہ 2018 سے جیل میں رہنے کے باوجود بھارتی غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی عام خواتین کے دلوں پر راج کرتی ہیں ۔ انہوں نے سفاک قوتوں کو دکھایا کہ اپنے خاندان کے افراد کو قربان کرنے کے باوجود وہ اب بھی فاتح ہیں۔یاسین ملک اور ہزاروں دیگر حریت رہنماؤں کی طرح جو قید میں ہیں، آسیہ اندرابی کی قید نے ان خیالات کو خاموش نہیں کیا ہے جن کی وہ نمائندگی کرتی ہیں۔
اس کے بجائےآسیہ اندرابی نے بہت سے لوگوں کے عزم کو مضبوط کیا ہے۔ تاریخ بار بار دہراتی ہے کہ قید عقائد کو دبا نہیں سکتی۔ بلکہ یہ اکثر لوگوں کو نئے عزم کے ساتھ انہی نظریات کو آگے بڑھانے کی ترغیب دیتی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کیس کی مذمت کرتے ہوئے اسے من گھڑت، سیاسی انتقام پر مبنی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی پسندوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ اس کیس کو مقبوضہ علاقے میں اختلاف رائے کو دبانے کے لئے بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی کوششوں کا حصہ قرارددیا جا رہا ہے۔
آسیہ اندرابی نے 1987 میں خواتین کی زیرقیادت آزادی پسند تنظیم دختران ملت کی بنیاد رکھی، وہ طویل عرصے سے اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت سمیت کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ بی جے پی کی زیرقیادت حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں کئی دیگر آزادی پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ دختران ملت پربھی پابندی عائد کررکھی ہے۔واضح رہے کہ آسیہ اندرابی کے شوہر عاشق حسین فکتو بھی گزشتہ تین دہائیوں سے جیل میں نظر بند ہیں۔ انہیں 2003 میں ایک من گھڑت قتل کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جس سے اندرابی خاندان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی عکاسی ہوتی ہے۔








