انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات کی قومی برآمدات میں 5 سال کے دوران 94 فیصد سےزیادہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران آئی ٹی برآمدات کا حجمبڑھ کر 3.24 ارب ڈالر ہو گیا ہے جبکہ مالی سال 2020 میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز کی برآمدات سے 1.67 ارب ڈالر زرمبادلہ کمایا گیا تھا
آئی ٹی سروسز کی برآمدات میں 5 سال کے دوران 94 فیصد اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات کی قومی برآمدات میں 5 سال کے دوران 94 فیصد سےزیادہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران آئی ٹی برآمدات کا حجمبڑھ کر 3.24 ارب ڈالر ہو گیا ہے جبکہ مالی سال 2020 میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز کی برآمدات سے 1.67 ارب ڈالر زرمبادلہ کمایا گیا تھا۔ اس طرح مالی سال 2020 تا 2025 کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات کی ملکی برآمدات میں 1.57 فیصد یعنی 94.01 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس دوران انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات کا حجم 3.81 ارب ڈالر تک بڑھا ہے۔ مالی سال 2025 کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن خدمات کی برآمدات مجموعی ملکی خدمات کی برآمدات کے 45 فیصد کے مساوی رہی ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق آئی ٹی کی خدمات کا ٹریڈ سرپلس 2.4 ارب ڈالر رہا ہے۔ معروف معاشی تجزیہ کار ناصر جمال نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ مالی سال 2025 کے دوران آئی ٹی کے شعبہ کی برآمدات میں فری لانس ٹرانزیکشنز 90.8 فیصد رہی ہے لیکن شعبہ کی مجموعی برآمدات میں فری لانس کی ٹرانزیکشنز کی مالیت 24.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021 تا 2025 کے دوران فی لانس کے شعبہ کی ٹرانزیکشنز کی مالیت میں 41 فیصد کمی ہوتی ہے اور فی ٹرانزیکشن اوسط مالیت 1.6 ڈالر سے 63 ڈالر تک کم ہوئی ہے تاہم اس عرصہ میں فری لانس شعبہ کی برآمدات میں 114.6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت کے باعث ٹیکنالوجی کی خدمات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان سافٹ ویئر ہائوسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے سابق چیئرمین بدر خورشید نے کہا ہے کہ آئی ٹی کے شعبہ کی برآمدات میں اضافہ کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کےلئے جامع حکمت عملی کے تحت منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے








