بھارتی ناظم الامور کی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں پر دفترخارجہ طلبی، احتجاج ریکارڈ کرایا گیا

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے بھارتی قابض فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں پر بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کیا اور شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ بھارتی فوج کی جانب سے 22 دسمبر 2020 کو لائن آف کنٹرول کے تتہ پانی اور جندوٹ سیکٹر پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر بلا اشتعال فائرنگ کی …

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے بھارتی قابض فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں پر بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کیا اور شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ بھارتی فوج کی جانب سے 22 دسمبر 2020 کو لائن آف کنٹرول کے تتہ پانی اور جندوٹ سیکٹر پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 50سالہ خاتون شہید جبکہ ایک لڑکی سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے دوران بھاری ہتھیار بشمول مارٹرز استعمال کیے گئے ۔ دفتر خارجہ کے مطابق 2020 کے دوران بھارتی قابض افواج نے فائر بندی کی 3012 خلاف ورزیاں کیں جن کے نتیجے میں 28 شہادتیں ہوئیں جبکہ 253 معصوم شہری زخمی ہوئے۔ بھارتی قابض افواج کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کی مذمّت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ اس طرح کے اقدامات 2003 کے فائر بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں جبکہ یہ انسانی اقدار اور پیشہ ورانہ فوجی کردار کے بھی منافی ہیں۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی اس طرح خلاف ورزیاں بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کو بڑھانے کی مسلسل کوششوں کی عکاس اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ بھارت اس طرح کشیدگی کو ہوا دے کر غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔ بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ 2003 کے فائر بندی کے معاہدے کا احترام کیا جائے، جان بوجھ کر فائر بندی کی خلاف ورزی کے واقعات کی تحقیقات کی جائیں اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر امن برقرار رکھا جائے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔