بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی "بازاری زبان” اور غیر پارلیمانی جملے اخلاقی دیوالیہ پن اور بھارتی عالمی تنہائی کی واضح مثالیں ہیں

اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی جانب سے حالیہ آل پارٹیز اجلاس میں استعمال کی گئی "بازاری زبان" اور غیر پارلیمانی جملے دراصل نئی دہلی کی بڑھتی ہوئی سفارتی ناکامی اور عالمی سطح پر تنہائی کا واضح عکس ہیں، یہ تندوتیز اور توہین آمیز لہجہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت کو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری اہم ثالثی عمل سے مکمل طور …

اسلام آباد۔26مارچ (اے پی پی):بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی جانب سے حالیہ آل پارٹیز اجلاس میں استعمال کی گئی "بازاری زبان” اور غیر پارلیمانی جملے دراصل نئی دہلی کی بڑھتی ہوئی سفارتی ناکامی اور عالمی سطح پر تنہائی کا واضح عکس ہیں، یہ تندوتیز اور توہین آمیز لہجہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت کو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری اہم ثالثی عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا ہے جبکہ پاکستان، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک ایک قابلِ اعتماد سفارتی پل کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

جے شنکر کا یہ ردعمل ایک ایسے ملک کے وزیر خارجہ کی گھٹیا ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہو اور یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارتی قیادت عالمی سیاست میں پختگی دکھانے کی بجائے گلی محلوں کے ڈراموں اور سوشل میڈیا کے شور پر یقین رکھتی ہے۔مغربی ایشیا کے امن عمل میں بھارت کا کردار "صفر” ہو کر رہ گیا ہے جس نے بھارتی اسٹیبلشمنٹ میں شدید بے چینی اور ذہنی دباؤ پیدا کر دیا ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کے مؤثر کردار اور عالمی طاقتوں کی جانب سے اسلام آباد سے مشاورت نے نئی دہلی کو ایک غیر متعلق تماشائی بنا دیا ہے۔ جب ریاستیں عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ کھو دیتی ہیں تو وہ اکثر ایسی "گٹر سطح” کی زبان اختیار کرتی ہیں تاکہ اپنی بے بسی کو چھپا سکیں۔ بھارت کی اربوں ڈالر کی وہ کوششیں بھی ناکام ہو گئی ہیں جن کا مقصد پاکستان کو تنہا کرنا تھا، کیونکہ عالمی سطح پر اعتماد طاقت سے نہیں بلکہ جرأت مندانہ اور منصفانہ ثالثی سے حاصل ہوتا ہے، جس میں بھارت بری طرح ناکام رہا ہے۔تاریخی طور پر بھی بھارت کا ریکارڈ تنازعات کو ہوا دینے کا رہا ہے جیسا کہ 1971 میں بنگلہ دیش میں مکتی باہنی کی حمایت اور قتل عام کے واقعات اس کے گواہ ہیں۔

اس کے برعکس پاکستان کا ریکارڈ امریکہ اور چین کے تعلقات میں سہولت کاری سے لے کر دوحہ معاہدے تک انتہائی نمایاں اور قابلِ اعتماد رہا ہے۔ آج جب ملائیشیا، یورپ، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کی تعریف کر رہے ہیں تو مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی اور جے شنکر کے غیر سنجیدہ بیانات خود بھارت کی عالمی حیثیت کے زوال کا اعتراف بن چکے ہیں۔ یہ بیانات خود اعتمادی نہیں بلکہ بھارت کے بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور سفارتی کمزوری کا ثبوت ہیں جسے اب جھوٹے پروپیگنڈے سے چھپانا ممکن نہیں رہا۔