بھارتی یوم آزادی کو مقبوضہ جموں وکشمیر سے لے کر آسام تک ”یوم سیاہ“کے طور پر منایا گیا

"بھارتی یومِ آزادی کو مقبوضہ جموں و کشمیر سے لے کر آسام تک ’یومِ سیاہ‘ کے طور پر منایا گیا، جہاں کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور بھارتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔”

سری نگر۔15اگست (اے پی پی):بھارتی یوم آزادی کو مقبوضہ جموں وکشمیر سے لے کر آسام تک ”یوم سیاہ“کے طور پر منایا گیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت نے جموںوکشمیر پر فوجی طاقت کے بل پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس نے اظہار رائے کی آزادی سمیت کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کررکھے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ علاقے میں جاری طویل بھارتی جبر، بلا جواز گرفتاریوں ، مواصلات پر پابندی، صحافتی آزادی پر قدغن ، کالے قوانین کے بے دریغ استعمال پر مسلسل اپنی تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔بھارت نے1947میں تقسیم برصغیر کے فارمولے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پر قبضہ جما لیا ۔ کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں نے 19 جولائی 1947 کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے سری نگر میں ایک اجلاس میں”الحاق پاکستان “ کی قرار داد منظور کی جس میں پاکستان کے ساتھ خطے کے مذہبی، جغرافیائی، ثقافتی اور اقتصادی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کا مطالبہ کیا گیاتھا۔ گویا کشمیریوں نے مملکت خداد ادکے باقاعدہ طور پر معرض وجود میں آنے سے تقریبا ایک ماہ قبل اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کر لیا تھا۔ انہوں نے گزشتہ 79برس کے دوران بھارتی تسلط سے آزادی اور مملکت خداداد پاکستان کیساتھ الحاق کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں ، بھارتی جبر انکے جذبہ آزادی کو توڑنے میں ناکام رہا ہے اور وہ حق پر مبنی اپنی تحریک کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔بھارت خود تنازعہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لے گیا تھا۔ عالمی ادارے کی سلامتی کونسل نے بعد ازاں کئی قراردادیں منظور کیں جن میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کوتسلیم کیاگیا اور ایک آزادانہ رائے شماری کے ذریعے انہیں یہ حق دینے کی بات کی گئی۔ بھارت اور پاکستان دونوں نے یہ قراردادیں تسلیم کیں تاہم بھارت بعدازاں ان قراردادوں سے مکر گیا اور جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے فوجی طاقت کا سہارا لینے لگا۔بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو یکطرفہ طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی اور جموں وکشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے یونیں ٹیری ٹری( نئی دلی کے براہ راست زیر کنٹرول) بنا لیا۔ بھارتی حکومت نے یہ سب کچھ علاقے کی مسلم شناخت کو ختم کرنے کیلئے کیا ۔ اس نے علاقے کے ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی لائی اور گزشتہ سات برس کے دوران ہزار وں بھارتی ہندوﺅں کو مقبوضہ علاقے میں بسایا۔ بھارت کے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کا احساس محرومی مزید گہرا ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی مقبوضہ جموںوکشمیر میں حیثیت ایک غاصب و جارح ملک کے سوا کچھ نہیں ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن وترقی کا خواب ہرگز شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔گوکہ بھارت 15اگست کو اپنا یوم آزادی منا تا ہے مگر یہی آزادی مانگنے پر وہ کشمیریوں کو بڑے پیمانے پر تختہ مشق بنا رہا ہے ۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاستیوں آسام ، منی پور ، ناگا لینڈ، تری پورہ وغیرہ میں بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت سے علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں ۔ ان ریاستوں کے عوام بھی بھارتی یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کا بائیکاٹ کر تے ہیں ۔ یونائیٹڈ نیشنل لبریشن فرنٹ آف آسام، نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ اور منی پور میں الائنس فار سوشلسٹ یونٹی نے لوگوں سے آج بھارتی یوم آزادی پر سیاہ پرچم لہرانے اور اس دن کو "یوم سیاہ” کے طور پر منانے کی اپیل کی ہے۔ سکھ بھی بھارتی یوم آزادی کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔طاقت کے نشے میں چور بھارت خطے پر اپنی بالا دستی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ فوجی طاقت کے بل پر جموں وکشمیر پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کی پالیسی پر مسلسل عمل پیرا ہے ۔مگر کشمیریوں کے عزم وہمت کے آگے اسے ایک روز سرنگوں ہونا پڑے گا۔ اسے شمال مشرقی ریاستوں کے عوام کی آواز بھی بالآخر سننا پڑے گی ۔