پاکستان ۔ترکیہ اقتصادی صلاحیت سے حقیقی استفادہ کے لیے زیادہ سے زیادہ کاروباری رابطوں کی ضرورت، مہمت سلون

آئی سی سی آئی، انٹرنیشنل ایکسیلنس ایوارڈز

اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) نے استنبول میں اپنے باوقار انٹرنیشنل ایکسیلنس ایوارڈز 2026 کی میزبانی کی، جس میں ترکیہ کے سینئر سرکاری حکام، سفارت کاروں، پاکستان اور ترکیہ کی سرکردہ کاروباری شخصیات اور کاروباری برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب کا مقصد پاکستان کے کاروباری اور مضبوط معاشی دوست برادر ممالک کے ساتھ آزادی کا جشن منانا تھا۔ہفتہ کو یہاں جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانی کاروباری رہنماؤں کو قومی معیشت میں ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں تقریباً 40 باوقار ایوارڈز پیش کیے گئے۔ تقریب میں ترک حکومت کے اعلیٰ حکام، استنبول چیمبر آف کامرس کے نمائندوں، پاکستانی سفارت کاروں اور دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔یہ ایوارڈز استنبول کے ڈپٹی گورنر مہمت سلون کے ہمراہ استنبول میں پاکستان کے قونصل جنرل خواجہ خرم نعیم، آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود، استنبول چیمبر آف کامرس کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن منیر استن اور آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے پیش کئے۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے استنبول کے ڈپٹی گورنر مہمت سلون نے ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور پاکستان کی کاروباری برادری کو ترکیہ میں لانے پر آئی سی سی آئی کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات عوام سے عوام اور کاروبار سے کاروباری رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے لیے نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں موجود کاروباری رہنما نہ صرف تجارت کر رہے ہیں بلکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دوستی اور افہام و تفہیم کے پل بھی تعمیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے آئی سی سی آئی، پاکستان میں ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نیزیراوگلو، استنبول میں پاکستان کے قونصلیٹ جنرل اور کامیاب تقریب میں تعاون کرنے والے تمام اداروں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور تر کیہ کے درمیان دوستی اور تعاون نسلوں تک مضبوط اور برقرار رہے گا۔استنبول میں پاکستان کے قونصل جنرل خواجہ خرم نعیم نے آئی سی سی آئی کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بہترین سیاسی اور برادرانہ تعلقات کو وسیع تر تجارت اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط کاروباری روابط بہت ضروری ہیں۔انہوں نے پاکستانی تاجر برادری کو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو فروغ دینے میں سفارتخانے کی جانب سے مسلسل تعاون کا یقین دلایا۔اپنے افتتاحی خطاب میں، آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالی اور دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو دونوں ممالک کی قیادت کی طرف سے پیش کیے گئے اہداف کی بلند ترین سطح پر لے جانے کے لیے آئی سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی برآمدات، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دے کر پاکستان کے لیے ایک عالمی کاروباری پل جبکہ کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے اور نجی شعبے کے لیے زیادہ مسابقتی ماحول پیدا کرنے کے لیے حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔استنبول چیمبر آف کامرس کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن منیر استن نے پاکستان اور تر کیہ کے درمیان اقتصادی اور کاروباری تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے آئی سی سی آئی کی کوششوں کو سراہا اور مضبوط ادارہ جاتی اور نجی شعبے کے روابط کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ کاروباری تبادلے، بی 2بی مصروفیات اور مشترکہ اقدامات سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں قابل استعمال صلاحیت سے بھر پور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔فیصل ٹاؤن گروپ کے ڈائریکٹر زوہیر مجید نے کہا کہ پاکستانی کاروباری رہنماؤں کی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پہچان ایک مضبوط پیغام ہے کہ پاکستان کا نجی شعبہ عالمی منڈیوں میں کامیابی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت، لچک اور کاروباری صلاحیت کا مالک ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ترکیہ کی مضبوط کاروباری شراکت داری ،سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، برآمدات اور پائیدار اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔تقریب کو آئی سی سی آئی کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کاروباری صلاحیت کو پیش کرنے اور پائیدار پاکستان-ترکیہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروبار سے کاروبار کے درمیان تعاون کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لیے ایک تاریخی اقدام کے طور پر سراہا گیا۔

مزید خبریں