بھارت اور افغانستان کی جانب سے مشترکہ بیان میں جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے نئی دہلی میں بھارت اور افغانستان کے مشترکہ بیان پر اپنے سخت تحفظات اور ردعمل سے پاکستان میں افغانستان کے سفیر کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10 اکتوبر کو جاری ہونے والے بیان میں جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت کی صریح خلاف ورزی …

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے نئی دہلی میں بھارت اور افغانستان کے مشترکہ بیان پر اپنے سخت تحفظات اور ردعمل سے پاکستان میں افغانستان کے سفیر کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10 اکتوبر کو جاری ہونے والے بیان میں جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے جمعہ کو یہاں پریس بریفنگ میں کہا کہ یہ بیان بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق خودارادیت کے لیے ان کی منصفانہ جدوجہد میں قربانیوں اور جذبات کے حوالے سے انتہائی بے حسی پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان قائم مقام وزیر خارجہ کے اس دعوے کو بھی سختی سے مسترد کردیا کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان نے بارہا فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر کی موجودگی کے حوالے سے تفصیلات بتائی ہیں جو افغانستان کے اندر موجود عناصر کی حمایت سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے سے عبوری افغان حکومت خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں ہوسکتی۔