بھارت سندھ طاس معاہدے کو ہتھیار بنا کر پاکستان میں غذائی بحران پیدا کر رہا ہے، ماہرین

پشاور۔8فروری (اے پی پی):زرعی ملک پاکستان کی غذائی سلامتی، معیشت اور کروڑوں افراد کی بقا دریاؤں کے پانی کے مسلسل اور منصفانہ بہاؤ سے وابستہ ہے تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کو بطور ہتھیار استعمال کر کے پاکستان میں مصنوعی غذائی عدم تحفظ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق 1960 میں عالمی بینک کی ضمانت سے طے پانے والا سندھ …

پشاور۔8فروری (اے پی پی):زرعی ملک پاکستان کی غذائی سلامتی، معیشت اور کروڑوں افراد کی بقا دریاؤں کے پانی کے مسلسل اور منصفانہ بہاؤ سے وابستہ ہے تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کو بطور ہتھیار استعمال کر کے پاکستان میں مصنوعی غذائی عدم تحفظ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق 1960 میں عالمی بینک کی ضمانت سے طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان جبکہ مشرقی دریاراوی، بیاس اور ستلج بھارت کو دیے گئے تھے۔ماہر معاشیات پروفیسر ڈاکٹر ذِلاکت ملک نے اے پی پی کو بتایا کہ سندھ طاس نظام سے سالانہ 168 ملین ایکڑ فٹ پانی کا بہاؤ ہوتا ہے، جس میں سے تقریباً 80 فیصد یعنی 133 ملین ایکڑ فٹ پانی پاکستان کو دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت بھارت کو مغربی دریاؤں پر محدود ذخیرہ، آبپاشی اور پن بجلی کے منصوبوں کی اجازت دی گئی مگر بھارت ان شقوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے آبی جارحیت پر اتر آیا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے سندھ، چناب اور جہلم پر 15 سے زائد ڈیم تعمیر کر چکا ہے اور مزید 45 سے 61 ڈیموں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جو معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے مغربی دریاؤں پر 30 سے زائد آبپاشی منصوبے مکمل کر کے تقریباً 15 ارب ڈالر کے مزید منصوبے شروع کر دیے ہیں، جن میں ساولکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ بھارت ان منصوبوں کو توانائی کی ضرورت قرار دیتا ہے، تاہم ان کا اصل مقصد پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے پاکستان کی زرعی پیداوار کو متاثر کرنا اور غذائی بحران پیدا کرنا ہے۔ڈاکٹر ذِلاکت ملک نے بتایا کہ بھارت بارہا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے، جبکہ مغربی دریاؤں کا پانی موڑنے کے دعوے تکنیکی، جغرافیائی اور مالی لحاظ سے نہایت مشکل اور ناقابلِ عمل ہیں۔ آبی ماہرین کے مطابق دریائے سندھ اور جہلم کا رخ موڑنے کے لیے 300 کلومیٹر سے زائد طویل سرنگوں کی ضرورت ہوگی، جو ہمالیہ اور پیر پنجال کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں تعمیر کرنا تقریباً ناممکن ہے، جبکہ دریائے چناب کی تنگ وادی اور گہری گھاٹیاں بھی کسی بھی غیر فطری مداخلت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

سابق سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر فاٹا بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی روایت پرانی ہے۔ انہوں نے 2003 بھارتی پارلیمنٹ حملے، اڑی اور پہلگام واقعات کے بعد معاہدے کو معطل رکھنے کے اعلانات کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ جون 2025 میں مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) کے فیصلے کے بعد بھارت قانونی طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے میں یکطرفہ تنسیخ یا معطلی کی کوئی شق موجود نہیں اور عالمی بینک بھی اس معاہدے کا ضامن ہے۔جامعہ پشاور کے سابق چیئرمین شعبۂ معاشیات پروفیسر ڈاکٹر محمد اعجاز خان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ جنگ اور تنازع کے دوران بھی مؤثر رہنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور اس کے تحت مستقل سندھ طاس کمیشن اور تنازعات کے حل کا جامع طریقہ کار موجود ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ مغربی دریاؤں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے اور پاکستان اس عمل کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

سابق سفیر منظورالحق نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی خطرناک مثال قائم کرتی ہے، جس سے نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ بین الاقوامی آبی قوانین بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 65 سال سے زائد عرصے تک یہ معاہدہ پاک-بھارت تعلقات میں استحکام کی علامت رہا مگر بھارت کا حالیہ رویہ اعتماد، ماحولیات اور کروڑوں انسانوں کی غذائی و توانائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔