اسلام آباد ۔ 7 مئی (اے پی پی) پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت طاقت کے زور سے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبا نہیں سکتا، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے، بھارت کسی بھی ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدام سے باز رہے جس سے خطہ میں امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہوں۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران …
بھارت طاقت کے زور سے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبا نہیں سکتا، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے، بھارت کسی بھی ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدام سے باز رہے جس سے خطہ میں امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہوں ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی ہفتہ وار بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 7 مئی (اے پی پی) پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت طاقت کے زور سے کشمیریوں کی جدوجہد کو دبا نہیں سکتا، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے، بھارت کسی بھی ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدام سے باز رہے جس سے خطہ میں امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہوں۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھاری مظالم مسلسل جاری ہیں جس کے خلاف ہزاروں کشمیری سراپا احتجاج ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے کشمیری عوام پر ظلم و ستم اور بربریت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی مقابلوں اور سرچ آپریشن میں بیگناہ کشمیریوں کو شہید کیا جا رہا ہے، بھارت طاقت کے زور سے کشمیریوں کی آواز کو دبا نہیں سکتا، کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں مارا جا رہا ہے جبکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں، ظلم کی انتہاء تو یہ ہے کہ شہید کشمیریوں کی لاشیں بھی ورثا کے حوالہ نہیں کی جا رہیں، عالمی برادری بھارتی مظالم کا نوٹس لے اور بھارت کو ذمہ دار ٹھہرائے۔ ترجمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے دراندازی سے متعلق بھارتی الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ ان الزامات کا مقصد بھارت کے اندر اقلیتوں پر تشدد اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے عالمی توجہ ہٹانا اور ”جعلی فلیگ” آپریشن کیلئے بہانہ تراشنا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بی جے پی حکومت ہندوتوا پالیسیوں پر مسلسل عمل پیرا ہے، مقبوصہ کشمیر میں نقل و حرکت پر گذشہ کئی ماہ سے بدستور پابندی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ 21 مارچ سے اب تک 19 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو دنیا کے مختلف ممالک سے واپس لایا گیا ہے جبکہ ایک لاکھ 85 ہزار سے زائد پاکستانی اب بھی وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ 868 پاکستانی قیدیوں کو بھی واپس لایا گیا، تمام پاکستانیوں کو منصوبہ بندی کے تحت واپس لائیں گے۔








