بھارت میں 2026 کے پہلے 74 دنوں میں 170 حراستی اموات ہوئیں، حکومت کا اعتراف

بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں 2026 کے پہلے 74 دنوں میں 170 حراستی اموات کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، متاثرین میں مسلمان، دلت اور آدیواسی وغیرہ شامل ہیں۔

نئی دہلی۔26مارچ (اے پی پی):بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں 2026 کے پہلے 74 دنوں میں 170 حراستی اموات کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، متاثرین میں مسلمان، دلت اور آدیواسی وغیرہ شامل ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی طرف سے مختلف ریاستوں میں مرتب کردہ اعدادوشمار کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں اعداد و شمار شیئر کیےجن میں بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران ملک بھر میں 170 حراستی اموات کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

وزارت نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں حراست میں ہونے والی اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2024-25 میں 140 کیسز ریکارڈ کیے گئے جبکہ اس سے پہلے کے سالوں میں 2023-24 میں 157، 2022-23 میں 163، اور 2021-22 میں 176 کیسز سامنے آئے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بہار میں 2026 میں اب تک سب سے زیادہ حراستی اموات کی اطلاع ملی ہے جس میں 19 کیسز ہیں، اس کے بعد راجستھان 18 اور اتر پردیش میں 15 ہیں جبکہ پنجاب، گجرات اور مہاراشٹر میں ہر ایک میں 14 کیسز ریکارڈ کیے گئے اس کے علاوہ جنوبی ریاستوں تامل ناڈو میں سات، تلنگانہ میں پانچ اور کرناٹک و کیرالہ میں تین تین کیس رپورٹ ہوئے۔

علاوہ ازیں، مغربی بنگال میں سات کیسز جبکہ اڑیسہ میں نو رپورٹ ہوئے۔شمال مشرقی علاقے میں آسام میں اس عرصے کے دوران پانچ اور اروناچل پردیش میں تین کیس درج ہوئے۔مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دہلی میں چار کیسز ریکارڈ کیے گئے جبکہ انڈمان اور نکوبار جزائر اور پڈوچیری میں 2026 میں ایک ایک کیس رپورٹ ہوا۔انسانی حقوق کی متعدد رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ دلت، آدیواسی، مسلمان اور دیگر پسماندہ اور غریب کمیونٹیز بی جے پی کے دور حکومت میں حراستی تشدداور اموات سے غیر متناسب طور پر متاثر ہیں۔

فروری میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی بھارت میں حراست میں ہونے والی اموات، تشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ فوری اور آزادانہ تحقیقات کرے۔

 

مزید خبریں