بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گرد پراکسیز کا انجام بھی گزشتہ سال مئی میں گرائے گئے طیاروں جیسا ہوگا، پاکستانی مندوب کا جنرل اسمبلی کی کمیٹی کے اجلاس میں اظہار خیال

ھارت نے مئی 2025 میں اپنی شکست کے بعد پاکستان کے خلاف کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت دہشت گرد پراکسیز کے استعمال میں اضافہ کر دیا ہے۔یہ بات پاکستان کے سینئر سفارت کار نے اقوام متحدہ کی کمیٹی کو بتائی

اقوام متحدہ۔8اکتوبر (اے پی پی):بھارت نے مئی 2025 میں اپنی شکست کے بعد پاکستان کے خلاف کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت دہشت گرد پراکسیز کے استعمال میں اضافہ کر دیا ہے۔یہ بات پاکستان کے سینئر سفارت کار نے اقوام متحدہ کی کمیٹی کو بتائی۔انہوں نے خبردار کیا کہ ان گروہوں کا انجام بھی گزشتہ سال مئی میں گرائے گئے بھارتی لڑاکا طیاروں جیسا ہوگا۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے جنرل اسمبلی کی قانونی امور سے متعلق سکستھ کمیٹی میں ”بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات“ کے موضوع پرمباحثے کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ جیسے بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے گروہوں کے دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے، جو بھارت کی فعال حمایت سے افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پاکستانی مندوب کے سخت موقف کے بعد بھارت اور پاکستان کے مندوبین کے درمیان لفظی جھڑپ بھی ہوئی، جس میں دونوں جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے۔ اپنے خطاب میں پاکستانی مندوب عثمان جدون نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے ابھرنے والی دہشت گردی، بالخصوص ایک سنگین خطرے کے طور پر سامنے آئی ہے۔

انہوں نے مغربی افریقہ، ساحل خطے اور مشرق وسطیٰ میں بھی دہشت گردی کے واقعات کی نشاندہی کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ملک کی مغربی سرحد کے ساتھ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور محفوظ ٹھکانوں کے خلاف انتہائی درست، منصوبہ بندی کے تحت اور متوازن انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ حملے صرف ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کو نشانہ بنا کر انتہائی درستگی کے ساتھ کیے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کی اموات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس کے برعکس کسی بھی الزام یا تاثر کو واضح طور پر مسترد کیا۔ اپنے جواب کے حق کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی مندوب راگھو پوری نے پاکستانی نمائندہ عثمان جدون کے الزامات کو مسترد کیا ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے قونصلر پاکستانی مندوب محمد جواد اجمل نے بھارتی موقف کا جواب دیتے ہوئے بھارت کو انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے لیے بھارت کی ”نئی محبت“ کوئی اتفاق نہیں بلکہ بھارت مبینہ طور پر طالبان حکومت کو مادی اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں میں معاونت کی جا سکے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ۔

انہوں نےپاکستانی سرزمین پر بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادوو کی گرفتاری کو بھارتی ریاستی دہشت گردی کی ایک نمایاں مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک اہم شخصیات کے قتل کی کارروائیوں میں بھارت کا مبینہ کردار اب اس کی غیر قانونی سرگرمیوں کا عالمی سطح پر نمایاں پہلو بن چکا ہے۔ انہوں نے امریکی سرزمین پر ایک سکھ رہنما کے قتل کی مبینہ سازش کے سلسلے میں نکھل گپتا کی جانب سے جرم قبول کرنے اور کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں بھارتی حکومت کے ایما پر کی گئیں، یہ سب کے علم میں ہیں اور ان کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، عوام اور قومی سلامتی کا دفاع کرے گا۔ پاکستانی مندوب محمد جواد اجمل نے کہا کہ بھارتی حکومت بظاہر پاکستان کے اندرونی معاملات میں حد سے زیادہ دلچسپی لے رہی ہے اور اسے دوسروں پر تنقید اور تضحیک آمیز رویہ اپنانے کی بجائے اپنے معاملات درست کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت میں حکمران آر ایس ایس۔بی جے پی حکومت نے ہندوتوا نظریے کو ریاستی پالیسی اور طرزِ عمل کا حصہ بنا دیا ہے اور اقلیتوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں،عیسائیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، دلتوں کو غیر انسانی سلوک کا سامنا ہے اور سکھوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 سے بھارت نے سخت اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کی منفرد شناخت تبدیل کرنے اور متنازع جموں و کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ کشمیری اپنے ہی وطن میں اقلیت بن جائیں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونے والے استصوابِ رائے کے انتظامات متاثر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو آبادکاری اور نوآبادیاتی طرز کی ایسی پالیسیوں کو مسترد کرنا چاہیے جن کی اکیسویں صدی میں کوئی جگہ نہیں۔

 

مزید خبریں