سابق صوبائی وزیر آبپاشی پنجاب محسن لغاری نے سندھ طاس معاہدہ کے مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ کو معطل نہیں کر سکتا۔
بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا، محسن لغاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اپریل (اے پی پی):سابق صوبائی وزیر آبپاشی پنجاب محسن لغاری نے سندھ طاس معاہدہ کے مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ کو معطل نہیں کر سکتا۔آبی پالیسیز کے ماہر اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان نیشنل گورننس پروگرام سے منسلک محسن لغاری نے "اے پی پی” سے اپنے خصوصی انٹرویو کے دوران سندھ طاس معاہدہ کو دنیا کے پانی کی تقسیم کے سب سے کامیاب معاہدوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ 1960 میں معاہدہ پر دستخط سے قبل تقریباً 12 سال تک اس حوالہ سے مذاکرات ہوئے۔
محسن لغاری نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کے لیے یکطرفہ طور پر اس معاہدہ سے دستبرداری مشکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی ثالثی کے طریقہ کار کو متحرک کرے گا۔ انہوں نے اس حوالہ سے مسلسل سفارتی کاوشوں کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بذات خود بھی مختلف فورمز پر اس مسئلہ کو مستقل طور پر اٹھایا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ کے حوالہ سے خدشات کو رد کرتے ہوئے محسن لغاری نے کہا کہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے فوری سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے اور بھارت کی جانب سے ثالثی ٹریبونل کے بائیکاٹ وغیرہ کے بارے میں عالمی برداری کو آگاہ کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رابطہ کے ذرائع کھلے رہنے چاہئیں اور پاکستان کو عالمی برادری کے ساتھ اپنے رابطے جاری رکھنے چاہئیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان ریکارڈ کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی قانونی کارروائی کو جاری رکھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ، پاکستان میں اپنے وسائل سے حاصل ہونے والے پانی کے انتظام کے نظام کو مستحکم کرنا چاہیئے، اس کے تحفظ کے اقدامات کو بہتر بنانا چاہئے اور طویل مدتی پانی کی لچک کو یقینی بنانے کے لیے پانی کو ذخیرہ کرنے کی پائیدار حکمت عملی اپنانے کی بھی ضرورت ہے۔
محسن لغاری نے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا کہ عالمی بینک کے اشتراک سے مستقل انڈس کمیشن کے اجلاس دوبارہ شروع کئے جائیں اور سندھ طاس معاہدہ کے آرٹیکل XII کے تحت معاہدہ کو جدید بنانے کیلئے مذاکرات جاری رکھے جائیں اور اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے کہ قانون کی تعمیل اور باہمی رضامندی سے دونوں ممالک کے آبی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔








