پاکستان کمشنر انڈس واٹرزٹریٹی سیدمہرعلی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ کو ختم یا معطل نہیں کرسکتا
بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو ختم یا معطل نہیں کرسکتا ، یہ محض ایک دستاویز نہیں 24 کروڑ لوگوں کی بقا کا معاملہ ہے، سیدمہرعلی شاہ
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):پاکستان کمشنر انڈس واٹرزٹریٹی سیدمہرعلی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ کو ختم یا معطل نہیں کرسکتا ، سندھ طاس معاہدہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ 24 کروڑ لوگوں کی بقا کا معاملہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدہ پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سید مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی بھارتی خلاف ورزی پر پاکستان دو بار ثالثی عدالت میں جا چکا ہے، معاہدہ میں طے ہے کہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو ثالث اسے حل کرائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ میں مجموعی طور پر 12 شقیں موجود ہیں ۔ سندھ طاس معاہدہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان امن کی علامت ہے۔سندھ طاس معاہدہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ 24 کروڑ لوگوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ہماری زراعت، خوراک اور معیشت سے جڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق بنائے گئے تمام اصولوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔سندھ طاس معاہدے پر کسی بھی طرح کی سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں ، سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر ایک بہترین معاہدہ ہے۔









