اسلام آباد ۔ 18 مارچ (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ بیرون ممالک روزگار کے مواقع بڑھانے اور سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے جامع اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ بات وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل سیّد زلفی بخاری نے بدھ کو یہاں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو پریزنٹیشن …
بیرون ممالک روزگار کے مواقع بڑھانے ، سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل حل کیلئے جامع اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں،وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز سیّد زلفی بخاری کی ای سی سی کو پریزنٹیشن

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 مارچ (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ بیرون ممالک روزگار کے مواقع بڑھانے اور سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے جامع اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ بات وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل سیّد زلفی بخاری نے بدھ کو یہاں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ بین الوزارتی جاب مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق افرادی قوت کی درجہ بندی اور ہنرسازی کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غیر معیاری سرٹیفکیشن کی روک تھام کیلئے ٹی ای وی ٹی کے نظام کو مرکزی دھارے میں لایا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہنرسازی اور استعداد کار میں بہتری کیلئے تکنیکی اور پیشہ وارانہ تعلیم کے صوبائی اداروں کے ساتھ بھی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ سیّد زلفی بخاری نے بتایا کہ نیوٹیک، بی ای اینڈ او ای اور او ای سی کے مابین ڈیٹا اور معلومات کے تبادلے کا نظام بنایا جا رہا ہے جس سے روزگار کے مواقع اور دستیاب ہنر بارے معلومات کا بہتر طریقہ سے تبادلہ ہو گا۔ سیّد زلفی بخاری نے بتایا کہ سمندر پار مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے بھی جامع اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ، نائیکوپ اور پی او سی کی فراہمی کا مو¿ثر اور فعال نظام اپنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح سمندر پار پاکستانی سکولوں کے مسائل کو بھی حل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں کیلئے قومی امیگریشن و ویلفیئر پالیسی تشکیل دی جائے گی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے سیّد ذوالفقار عباس بخاری کی قیادت مین بین الوزارتی ٹاسک فورس کی کارکردگی کی تعریف کی اور بجٹ کے ایک ماہ بعد دوبارہ ای سی سی کے سامنے ٹاسک فورس کی سفارشات اور تجاویز پر پیشرفت کے حوالہ سے پریزنٹیشن دینے کی ہدایت کی۔








