حکومت نے چاغی کے معدنی ذخائر کو مین لائن-1 (ایم ایل-1) کے ذریعے عالمی منڈی سے منسلک کرنے کے لیے روہڑی سے نوکنڈی تک 884 کلومیٹر طویل ریلوے رابطے کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے
حکومت کا چاغی کے معدنی وسائل کو عالمی منڈی سے منسلک کرنے کے لیے 884 کلومیٹر ریلوے لائن اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔29اگست (اے پی پی):حکومت نے چاغی کے معدنی ذخائر کو مین لائن-1 (ایم ایل-1) کے ذریعے عالمی منڈی سے منسلک کرنے کے لیے روہڑی سے نوکنڈی تک 884 کلومیٹر طویل ریلوے رابطے کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق منصوبے کے تحت روہڑی سے نوکنڈی تک مین لائن-3 (ایم ایل-3) کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور یہ ریکوڈک ریل کنیکٹیویٹی پراجیکٹ کا حصہ ہے ۔ پاکستان ریلوے اور ریکوڈک مائننگ کمپنی (آر ڈی ایم سی) نے 2023 میں مشترکہ سائٹ دوروں اور تکنیکی مطالعات کے ذریعے رابطہ کاری کا آغاز کیا تھا۔ پاکستان ریلوے اور آر ڈی ایم سی کے تکنیکی، تجارتی اور قانونی ورکنگ گروپس کا پہلا اجلاس 19 جولائی 2024 کو منعقد ہوا۔ 8 اگست 2025 کو وزیراعظم نے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے آر ڈی ایم سی کی جانب سے 39 کروڑ ڈالر کی برج فنانسنگ کے انتظام کی منظوری دی۔دستاویز کے مطابق ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کے تفصیلی ڈیزائن کے لیے پی سی-II کی بھی 8 اگست 2025 کو منظوری دی گئی، جس کے بعد ڈیزائن کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کے لیے خریداری کا عمل شروع کیا گیا۔ بعد ازاں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ریکوڈک ریل کنیکٹیویٹی پراجیکٹ سے متعلق ریل ڈویلپمنٹ اور برج فنانسنگ معاہدوں کی منظوری دی۔ 39 کروڑ ڈالر کے برج فنڈنگ معاہدے اور ریل ڈویلپمنٹ معاہدے پر آر ڈی ایم سی کے ساتھ دستخط کیے جا چکے ہیں۔30 مارچ 2026 کو منعقدہ اسٹیئرنگ کمیٹی کے دوسرے اجلاس کے دوران آر ڈی ایم سی نے آگاہ کیا کہ منصوبہ 12 ماہ کے فعال انتظامی مرحلے میں داخل ہوگا، جو 30 جون 2027 تک جاری رہے گا۔منصوبے کے پی سی-I کی سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 18 جون 2026 کو اصولی طور پر سفارش کی تھی تاکہ اسے منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ منصوبے کا سنگ بنیاد جولائی 2027 میں رکھے جانے کی توقع ہے۔







