سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ بینکاری قرضوں کی وصولی کے مقدمات میں اجازتِ دفاع (Leave to Defend) صرف اسی صورت دی جا سکتی ہے جب مدعا علیہ کوئی حقیقی، ٹھوس اور قابلِ غور قانونی یا حقائق پر مبنی سوال اٹھائے۔
بینکاری مقدمات میں متضاد مؤقف اختیار نہیں کیا جا سکتا، اجازتِ دفاع کے لیے ٹھوس قانونی سوال لازمی ہے ، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ بینکاری قرضوں کی وصولی کے مقدمات میں اجازتِ دفاع (Leave to Defend) صرف اسی صورت دی جا سکتی ہے جب مدعا علیہ کوئی حقیقی، ٹھوس اور قابلِ غور قانونی یا حقائق پر مبنی سوال اٹھائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایک فریق مقدمے کے مختلف مراحل پر متضاد مؤقف اختیار نہیں کر سکتا اور نہ ہی بعد میں ایسا دفاع پیش کر سکتا ہے جو اس کے پہلے مؤقف کے برعکس ہو۔جسٹس محمد شفیع صدیقی نے جسٹس شاہد وحید اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل تین رکنی بینچ کا فیصلہ تحریر کیا۔
عدالت نے یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) کے حق میں لاہور ہائی کورٹ اور بینکاری عدالت کے فیصلے برقرار رکھتے ہوئے شاہد حمید اور دیگر کی اپیل مسترد کر دی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مالیاتی اداروں کے قرضوں کی وصولی کے قانون کے تحت مدعا علیہ پر لازم ہے کہ وہ اجازتِ دفاع کی درخواست میں تمام اہم حقائق، اپنے دفاع کی بنیاد اور تنازع کے قانونی نکات واضح طور پر بیان کرے۔ اگر درخواست میں یہ قانونی تقاضے پورے نہ کیے جائیں تو عدالت اجازتِ دفاع دینے کی پابند نہیں۔عدالت نے فیصلے میں ایک اہم قانونی اصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ جائیداد کے اصل ملکیتی دستاویزات کا بینک کی تحویل میں ہونا مساوی رہن (Equitable Mortgage) کا مضبوط قانونی ثبوت ہے۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس نے ضمانتی دستاویزات پر دستخط نہیں کیے تو اسے یہ بھی وضاحت کرنا ہوگی کہ اس کی جائیداد کے اصل کاغذات بینک کے قبضے میں کیسے پہنچے۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ اپیل کنندگان نے ابتدائی مرحلے پر دائر کی گئی مشترکہ درخواستِ اجازتِ دفاع میں نہ تو جعل سازی، نقالی یا دستخطوں کے غلط استعمال کا الزام لگایا اور نہ ہی قرض کی فراہمی یا جائیداد کے رہن ہونے سے انکار کیا۔ بعد ازاں یہ مؤقف اختیار کرنا کہ ضمانتی دستاویزات پر دستخط کسی اور نے کیے تھے، ان کے اپنے سابقہ مؤقف سے متصادم تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانون کسی فریق کو ایک ہی وقت میں دو متضاد مؤقف” اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی شخص ایک مرحلے پر کسی معاملے کو تسلیم کرے اور بعد میں اسی سے انکار کرے تو اس کا مؤقف قانونی اعتبار سے کمزور ہو جاتا ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اپیل کنندگان یہ بھی ثابت نہیں کر سکے کہ مرکزی اپیل کنندہ ضمانتی دستاویزات پر دستخط کے وقت ملک سے باہر تھا۔ اس دعوے کے حق میں کوئی سفری ریکارڈ یا دوسری قابلِ اعتماد شہادت پیش نہیں کی گئی۔عدالت نے قرار دیا کہ قرض لینے والی کمپنی نے مالی سہولتیں حاصل کیں، اپیل کنندگان اس کے ڈائریکٹر تھے، جائیداد بینک کے پاس رہن رکھی گئی اور اصل دستاویزات بینک کی تحویل میں رہیں۔ ایسے حالات میں ضمانتوں سے متعلق اعتراضات کسی مؤثر دفاع کی بنیاد نہیں بن سکتے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بینکاری عدالت اور لاہور ہائی کورٹ نے قانون کا درست اطلاق کیا ہے اور ان کے فیصلوں میں مداخلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں، لہٰذا اپیل مسترد کی جاتی ہے۔








