بی آئی ایس پی فنڈز میں اضافہ اور کینسر کی ادویات پر ڈیوٹی کا خاتمہ حکومت کا بہترین عمل ہے، ایم این اے شبیر علی بجارانی
بی آئی ایس پی فنڈز میں اضافہ اور کینسر کی ادویات پر ڈیوٹی کا خاتمہ حکومت کا بہترین عمل ہے، ایم این اے شبیر علی بجارانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شبیر علی بجارانی نے بجٹ 2026-27 کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ سماجی تحفظ کے پروگرام (بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام) کے حجم میں 17 فیصد اضافہ کر کے اسے 838 ارب روپے تک پہنچانا اور کینسر سمیت لائف سیونگ ادویات پر کسٹم ڈیوٹی کا مکمل خاتمہ حکومت کا ایک انتہائی مثبت اور بڑا اچھا عمل ہے جس سے پاکستان کے غریب عوام اور مریضوں کو براہ راست بڑا ریلیف ملے گا۔
منگل کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے شبیر علی بجارانی نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا دائرہ کار 12 ملین (ایک کروڑ 20 لاکھ) خاندانوں تک وسیع کرنا غریب پرور اقدام ہے جبکہ 100 سے زائد خام مال اور ادویات پر ڈیوٹی ختم کرنے سے کینسر کے مریضوں اور دیگر امراض میں مبتلا عوام کا علاج آسان ہوگا۔
انہوں نے ان مثبت اقدامات پر حکومت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔بجٹ کے دیگر پہلوئوں پر بات کرتے ہوئے شبیر علی بجارانی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مثبت اقدامات کے ساتھ ساتھ ٹیکس پالیسیوں پر بھی نظرثانی کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ایف بی آر ٹیکس نیٹ کو وسیع اور دستاویزی بنائے۔ شبیر علی بجارانی کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ ہماری معیشت کی شہ رگ ہے، پچھلے دنوں پانی کے مسئلے پر سندھ اور بلوچستان میں شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا، اس لئے واٹر ریسورسز کیلئے بجٹ میں خطیر رقم مختص ہونی چاہئے تھی۔
انہوں نے زراعتی شعبے پر 45 فیصد انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب محض 12 فیصد ہے جبکہ بھارت اور ویتنام میں یہ 18.5 فیصد ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ صرف فارمرز اور سیلریڈ کلاس پر بوجھ ڈالنے کی بجائے رئیل اسٹیٹ، ہول سیل اور ریٹیل سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لا کر برابری کی بنیاد پر ٹیکس وصول کیا جائے اور تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس سلیب میں فوری ریلیف دیا جائے۔








