تائیوان میں افریقی سوائن فیور کے پہلے کیس کی تصدیق، درجنوں سور تلف، گوشت کی صنعت پر تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا خدشہ

تائپے۔23اکتوبر (اے پی پی):تائیوان میں افریقی سوائن فیورکا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد حکام نے درجنوں سور تلف کر دیئے ہیں تاہم وزارت زراعت نے کہا ہے کہ جزیرے کے دیگر حصوں میں کوئی اور کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ اے ایف پی کے مطابق افریقی سوائن فیور انسانوں کو متاثر نہیں کرتا مگر سوروں کے لیے انتہائی متعدی اور مہلک ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا پھیلاؤ سور کے …

تائپے۔23اکتوبر (اے پی پی):تائیوان میں افریقی سوائن فیورکا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد حکام نے درجنوں سور تلف کر دیئے ہیں تاہم وزارت زراعت نے کہا ہے کہ جزیرے کے دیگر حصوں میں کوئی اور کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

اے ایف پی کے مطابق افریقی سوائن فیور انسانوں کو متاثر نہیں کرتا مگر سوروں کے لیے انتہائی متعدی اور مہلک ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کا پھیلاؤ سور کے گوشت کی صنعت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ڈپٹی وزیر زراعت تو وین جین نے مرکزی شہر تائی چونگ میں نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ ابھی تک دیگر علاقوں میں کوئی غیر معمولی صورت حال سامنے نہیں آئی۔

وزارت کے مطابق ووچی ضلع کے ایک فارم میں مرنے والے سوروں کے نمونے اس ماہ افریقی سوائن فیور کے لیے مثبت پائے گئے جس کے بعد 195 سوروں کو تلف کیا گیا۔

محکمہ حیوانات و نباتات کے معائنہ ادارے کے اہلکار لین نین نونگ نے بتایا کہ حکام فارم سے فروخت کیے گئے 28 سوروں کی نشاندہی کر رہے ہیں جو مختلف مارکیٹوں میں بیچے گئے تھے۔

وزارت نے مزید کہا کہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تین کلومیٹر کے دائرے میں کنٹرول زون قائم کیا گیا ہے جبکہ پورے جزیرے میں سوروں کی ترسیل اور ان سے گوشت حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تائیوان میں تقریباً 50 لاکھ سور ہیں اور سور کے گوشت کی صنعت سالانہ 70 ارب نیو تائیوان ڈالر (2.3 ارب امریکی ڈالر) کی آمدن پیدا کرتی ہے۔

مزید خبریں