تاریخِ پیدائش میں تاخیر سے تبدیلی کی درخواست ناقابلِ قبول، ملازم عمر میں رعایت لینے کے بعد مؤقف نہیں بدل سکتا،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کی تاریخِ پیدائش سروس ریکارڈ میں ایک بار درج ہونے کے بعد حتمی حیثیت اختیار کر لیتی ہے

اسلام آباد۔6جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کی تاریخِ پیدائش سروس ریکارڈ میں ایک بار درج ہونے کے بعد حتمی حیثیت اختیار کر لیتی ہے اور ملازم عمر میں رعایت (Age Relaxation) کا فائدہ حاصل کرنے کے بعد بعد ازاں مختلف تاریخِ پیدائش کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول پنجاب کی جانب سے دائر اپیل منظور کرتے ہوئے پنجاب سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ محمد عبداللہ خان نے ابتدائی سرکاری ملازمت اور بعد ازاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) میں ملازمت کے دوران اپنی تاریخِ پیدائش 7 جنوری 1964 ظاہر کی تھی۔ بعد میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (بی ایس 17) کی آسامی کے لیے درخواست دیتے وقت بھی اسی تاریخِ پیدائش کی بنیاد پر عمر میں رعایت حاصل کی گئی۔فیصلے کے مطابق ملازم نے بعد ازاں یونین کونسل سرٹیفکیٹ اور نئے حاصل کردہ میٹرک سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر اپنی تاریخِ پیدائش 18 نومبر 1966 درج کرنے کی درخواست دی، جسے محکمہ نے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم پنجاب سروس ٹریبونل نے محکمہ کو ریکارڈ میں تبدیلی کی ہدایت دی تھی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پنجاب فنانشل رولز اور پنجاب سول سرونٹس رولز کے تحت سرکاری ملازم اپنی تاریخِ پیدائش میں تبدیلی کی درخواست صرف ملازمت میں شمولیت کے دو سال کے اندر دے سکتا ہے، جبکہ مقررہ مدت گزرنے کے بعد ایسی درخواست قابلِ سماعت نہیں رہتی۔عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے نہ صرف برسوں تک اپنے ریکارڈ میں درج تاریخِ پیدائش کو تسلیم کیا بلکہ اسی بنیاد پر عمر میں رعایت حاصل کر کے سرکاری عہدہ بھی حاصل کیا، اس لیے وہ اب مختلف تاریخِ پیدائش کا دعویٰ کرنے سے قانونی طور پر روکا جاتا ہے۔ یہ اصولِ استوپل (Estoppel) اور Acquiescence کے زمرے میں آتا ہے۔سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ تعلیمی ریکارڈ میں بعد ازاں کی گئی تبدیلی خود بخود سروس ریکارڈ میں تبدیلی کا جواز نہیں بن سکتی، خصوصاً جب ملازم پہلے ہی سابقہ ریکارڈ کی بنیاد پر فوائد حاصل کر چکا ہو۔عدالت نے قرار دیا کہ سروس ریکارڈ میں تاخیر سے تبدیلی کی ایسی کوششیں عموماً ملازمت کی مدت بڑھانے کے لیے کی جاتی ہیں اور انتظامی استحکام، سنیارٹی کے نظام اور سرکاری امور کے نظم و نسق کو متاثر کرتی ہیں۔عدالت نے محکمانہ حکم بحال کرتے ہوئے ملازم کی تاریخِ پیدائش میں تبدیلی کی درخواست مسترد کر دی۔