فیصل آباد۔ 20 اکتوبر (اے پی پی):زرعی ریسرچ کے اداروں کے سائنسدانوں اور ماہرین زراعت کی مسلسل تحقیقی کاوشوں کے باعث پاکستان میں مکئی کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوگیاہے اوراکثر علاقوں میں پیداوار2.86ٹن فی ایکڑسے بھی تجاوز کرگئی جبکہ پولٹری انڈسٹری کے سالانہ نو فیصد شرح نمو کے ساتھ اپنا دائرہ بڑھانے کے باعث اسی شرح سے پولٹری فیڈکی ضروریات میں بھی اضافہ ہورہا ہے لہٰذا کاشتکاروں کو …
تحقیقی کاوشوں کے باعث مکئی کی پیداوار2.86ٹن فی ایکڑسے بھی تجاوز کرگئی

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 20 اکتوبر (اے پی پی):زرعی ریسرچ کے اداروں کے سائنسدانوں اور ماہرین زراعت کی مسلسل تحقیقی کاوشوں کے باعث پاکستان میں مکئی کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوگیاہے اوراکثر علاقوں میں پیداوار2.86ٹن فی ایکڑسے بھی تجاوز کرگئی جبکہ پولٹری انڈسٹری کے سالانہ نو فیصد شرح نمو کے ساتھ اپنا دائرہ بڑھانے کے باعث اسی شرح سے پولٹری فیڈکی ضروریات میں بھی اضافہ ہورہا ہے لہٰذا کاشتکاروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ زیادہ پیداواری امکانات کی حامل مکئی کی اقسام کاشت کرکے اپنے مالی وسائل میں بھرپور اضافہ کرسکتے ہیں۔
ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آبادچوہدری عبدالحمید نے کہا کہ مکئی کی مقامی دوغلی اقسام کی تیاری کے حوالے سے مقامی زرعی تحقیقاتی ادارہ اہم کردار ادا کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف ایچ 810، ایف ایچ 421،ایف ایچ 985، ایف ایچ 949،ایف ایچ 793اور ایف ایچ 1046وغیرہ زیادہ درجہ حرارت اور گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جبکہ ان اقسام کی چھلیاں 8سے10انچ لمبی ہوتی ہیں اور ان چھلیوں پر دانوں کی16سے18قطاریں موجود ہونے کی وجہ سے پیداواری صلاحیت 100سے110من فی ایکڑ ہے۔
انہوں نے بتایاکہ پنجاب کے چھوٹے کاشتکار ادارہ کی تیار کردہ مقامی دوغلی اقسام کا بیج سستا ہونے کی وجہ سے کاشت کو ترجیح دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے زرعی سائنسدان سنگل کراس کے ساتھ ڈبل کراس ہائی برڈ لائنوں پر بھی کام کررہے ہیں لہٰذا مستقبل میں مکئی کی ایسی نئی اقسام متعارف کرائی جائیں گی جوبدلتے ہوئے موسمی حالات اور پانی کی کمی جیسی صورت حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔








