ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار بریفنگ

اسلام آباد ۔ 28 فروری (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی سمیت تمام تصفیہ معاملات پر بھارت کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے،کشمیر دونوں ملکوں کے مابین بنیادی تنازعہ ہے،پاکستان اس سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔دہشت گردی کے بہانے ٹھوس شواہد کے بغیر اس طرح کی دراندازی پوررے خطے کو تباہی سے دو چار …

اسلام آباد ۔ 28 فروری (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی سمیت تمام تصفیہ معاملات پر بھارت کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے،کشمیر دونوں ملکوں کے مابین بنیادی تنازعہ ہے،پاکستان اس سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔دہشت گردی کے بہانے ٹھوس شواہد کے بغیر اس طرح کی دراندازی پوررے خطے کو تباہی سے دو چار کر سکتی ہے، پاکستان اپنی دفاع کیلئے کسی کی طرف نہیں دیکھے گا ہمیں مسلح افواج اور عوام پر مکمل بھروسہ ہے، کشیدگی کم کرنے کیلئے بھارتی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں، سمجھوتہ ایکسپریس کو سکیورٹی وجوہات کی بناء پر روکا ہے۔پلوامہ حملے سے متعلق بھارت نے ڈوزیئرز پاکستان کے حوالے کئے ہیں۔جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارت نے پلوامہ حملے سے متعلق دستاویزات پاکستان کے حوالے کئے ہیں۔دستاویزات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ٹھوس شواہد پر پاکستان بھر پور تعاون کریگا۔پاکستان کشیدگی نہیں چاہتا۔بھارت کیساتھ دہشت گردی سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات کیلئے تیار ہیں تاہم کشمیر دونوں ملکوں کے مابین بنیادی تنازعہ ہے۔پاکستان اس سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایک سوال کا جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارت کا ایک پائلٹ ہمارے پاس محفوظ اور اچھی حالت میں ہے۔ پائلٹ کو جنگی قیدی کا درجہ دینے کے بارے میں جلد فیصلہ کیا جائیگا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کسی کیساتھ کشیدگی نہیں چاہتا،ہم بات چیت کیلئے پہلے بھی تیار تھے اب بھی تیار ہیں تاہم بھارت مذاکرات سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے۔ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم پر جنگ مسلط کی گئی اور ہم نے بھر پور جواب دیدیا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ہم نے پاکستان و بھارت کیلئے یو این فوجی مبصر گروپ سے رابط کیا ہے اور جلد گروپ کو اس مقام کا دورہ کرایا جائیگا جہاں بھارتی جنگی طیارے کو مار گرایا گیا ہے۔ بھارتی جارحیت کے حوالے سے مختلف ممالک کی جانب سے جاری بیانات سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ہم عالمی برادری کو باور کرا چکے ہیں کہ اگر دہشت گرد ٹھکانوں کیخلاف کارروائی کرنامقصود بھی ہو تو عالمی قوانین علاقائی جارحیت کی اجازت نہیں دیتے۔ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے بہانے ٹھوس شواہد کے بغیر اس طرح کا حملہ خطے کو تباہی سے دو چار کر سکتا ہے۔ترجمان نے کہا اب تو خود بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ نریندر مودی کی پالیسیاں خطے کو عدم استحکام اور تباہی سے دو چار کر سکتی ہیں۔او آئی سی اجلاس کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی واضح کر چکے ہیں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ابو ظہبی میں او آئی سی وزراءخارجہ کانفرنس میں شرکی کی تو وہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔