اسلام آباد ۔ 07 مارچ (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ او آئی سی امہ کی تنظیم ہے، او آئی سی میں بھارت کو مبصر کی حیثیت کبھی قبول نہیں کریں گے، بھارت کے ساتھ کشیدگی کافی کم ہوئی ہے، جنگ کا خطرہ ٹلا یا نہیں کچھ کہہ نہیں سکتا، بھارت اگر ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھتا ہے تو پہلے کی طرح بھر …
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 07 مارچ (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ او آئی سی امہ کی تنظیم ہے، او آئی سی میں بھارت کو مبصر کی حیثیت کبھی قبول نہیں کریں گے، بھارت کے ساتھ کشیدگی کافی کم ہوئی ہے، جنگ کا خطرہ ٹلا یا نہیں کچھ کہہ نہیں سکتا، بھارت اگر ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھتا ہے تو پہلے کی طرح بھر پور جواب دیا جائے گا، دہشت گردی، سارک سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ او آئی سی امت مسلہ کی تنظیم ہے، بھارت کو مبصر کی حیثیت کو کبھی قبول نہیں کریں گے، ہمارے مقاصد واضح ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ او آئی سی نے وزارت خارجہ کونسل کے حالیہ اجلاس میں بھارت کو دعوت نہیں دی تھی بلکہ میزبان ملک یو اے ای نے مدعو کیا تھا تاہم پاکستان کی عدم شرکت کے باوجود 57 اسلامی ملکوں نے متفقہ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور حالیہ بھارتی جارحیت کی بھرپور مذمت کی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کافی حد تک کم ہوئی ہے تاہم ہم اس میں مزید کمی چاہتے ہیں، بھارت ہماری بات چیت کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے اور اگر کمزوری سمجھتا ہے تو ایسا جواب دیں گے جیسا گزشتہ دنوں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اور بھارت کے ساتھ سارک دہشت گردی سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات کیلئے تیار ہے تاہم دونوں ملکوں کے مابین کشمیر بنیادی تنازعہ ہے جو گزشتہ 70 سالوں سے حل طلب ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ مسعود اظہر کے حوالہ سے پاکستان کے مفاد میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل فخر ہے کہ ہم نے بھارت کو سفارتی، فوجی، سیاسی اور میڈیا کے محاذوں پر شکست سے دوچار کیا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کی بحری حدود کی خلاف ورزی سے متعلق ترجمان نے کہا کہ اس سلسلہ میں سفارتی ردعمل کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ ایک دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پلوامہ حملہ کے حوالہ سے بھارت کی جانب سے ڈوزیئر ملے ہیں، ڈوزیئرز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس کا جواب دیدیا جائے گا۔ ترجمان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کرتارپور راہداری معاہدے کا مسودہ نئی دہلی کے ساتھ شیئر کیا تھا اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کے مابین بات چیت اگلے جمعرات کو اٹاری میں ہو گی۔








