بجلی کے صارفین کے لیے ڈیٹا کا مؤثر اور مربوط استعمال یقینی بنانے کی جانب اہم پیش رفت ،وزارت توانائی پاور ڈویژن نے شعبہ جاتی سطح پر ڈیٹا گورننس فریم ورک متعارف کرا دیا

بجلی کے صارفین کے لیے ڈیٹا کا مؤثر اور مربوط استعمال یقینی بنانے کی جانب اہم پیش رفت ،وزارت توانائی پاور ڈویژن نے شعبہ جاتی سطح پر ڈیٹا گورننس فریم ورک متعارف کرا دیا

راولپنڈی۔20ستمبر (اے پی پی):پاکستان کے بجلی کے شعبے میں 4 کروڑ سے زائد صارفین کے لیے ڈیٹا کا مؤثر اور مربوط استعمال یقینی بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ وزارت توانائی پاور ڈویژن نے شعبہ جاتی سطح پر ڈیٹا گورننس فریم ورک متعارف کرا دیا جبکہ معلومات کے معیار، تصدیق، تبادلے اور مؤثر استعمال کے لیے پاور سیکٹر ڈیٹا گورننس کونسل بھی قائم کر دی گئی ہے۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ماہر اور ٹیکنالوجی انٹرپرینیور طلحہ خالد نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد پالیسی سازی، منصوبہ بندی، ریگولیشن، نگرانی اور سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں کے لیے قابل اعتماد، بروقت اور مربوط معلومات کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے تاکہ بجلی کے شعبے میں فیصلہ سازی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں میں ڈیٹا کے معیار اور تعریفوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے سے معلومات کے باہمی تبادلے، نگرانی اور ادارہ جاتی رابطہ کاری کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے، ڈیٹا گورننس فریم ورک اسی مقصد کے تحت مشترکہ معیار اور مربوط طریقہ کار کے فروغ میں معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں مسلسل اصلاحات اور جدید کاری کے عمل کے ساتھ قابل اعتماد اور مربوط ڈیٹا کی اہمیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ بجلی کی پیداوار، ترسیل و تقسیم، صارفین کو خدمات کی فراہمی اور شعبہ جاتی منصوبہ بندی سمیت مختلف امور میں معیاری معلومات مؤثر پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا گورننس کے تحت معلومات جمع کرنے، تصدیق، تحفظ، باہمی تبادلے اور استعمال کے لیے واضح معیارات اور ذمہ داریاں متعین کی جاتی ہیں جس سے دستیاب معلومات کو بہتر اور مربوط فیصلوں کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لانے میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے کی جدید کاری کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا فروغ اہم ہے۔ سمارٹ میٹرز، مصنوعی ذہانت اور خودکار رپورٹنگ سمیت جدید ٹیکنالوجیز معلومات کے حصول اور تجزیے کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں جبکہ مشترکہ معیارات اور ذمہ دارانہ معلومات کے تبادلے سے ان ٹیکنالوجیز کے فوائد کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ طلحہ خالد نے کہا کہ قابل اعتماد ڈیٹا کی ضرورت اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے جب بجلی کے شعبے میں قابل تجدید توانائی، تقسیم شدہ بجلی کی پیداوار، بیٹری سٹوریج، الیکٹرک گاڑیوں، طلب کے انتظام اور مسابقتی مارکیٹ جیسے نئے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، ان شعبوں کے مؤثر فروغ کے لیے یکساں معیار اور اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریم ورک کے تحت بجلی کے شعبے کے ڈیٹا کو مشترکہ شعبہ جاتی وسیلہ تصور کیا گیا ہے۔

اس نظام کی مؤثر کامیابی کے لیے ڈیٹا کے معیار میں مسلسل بہتری، مشترکہ تعریفوں کا فروغ، ذمہ دارانہ معلومات کا تبادلہ، حساس معلومات کا تحفظ اور متعلقہ اداروں میں ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ اہم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا گورننس کے فروغ سے توانائی اور معاشی منصوبہ بندی کے مختلف شعبوں میں بھی معاونت حاصل ہو گی جن میں ٹیرف اصلاحات، مارکیٹ کی ترقی، صنعتی مسابقت، موسمیاتی اہداف اور سرمایہ کاری سے متعلق فیصلے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل اتھارٹی کے تحت وسیع تر ڈیٹا گورننس فریم ورک وفاقی اور صوبائی اداروں میں بھی معیاری اور مربوط ڈیٹا کے استعمال کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ طلحہ خالد نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں ڈیٹا گورننس کے حوالے سے اقدامات اب عملی نفاذ کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ مشترکہ ڈیٹا معیارات کا مستقل فروغ اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سازی اس عمل کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔