حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، علی پرویز ملک

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت وزیراعظم کی قیادت میں مشکل حالات کے باوجود ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

لاہور۔20ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت وزیراعظم کی قیادت میں مشکل حالات کے باوجود ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ اتوار کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت موجودہ مشکل عالمی حالات میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل فراہمی، توانائی کے تحفظ اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت انتہائی نازک علاقائی صورتحال سے گزر رہا ہے گزشتہ کئی ماہ سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان سمیت متعدد ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تیل کی ترسیل کو متاثر کرنے والے حوثی حملوں سمیت علاقائی کشیدگی نے عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے مشکل حالات میں بھی عوام کے لیے ایندھن کی دستیابی برقرار رکھی ہے۔ وسائل کی تنگی کے باوجود حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور ریاست کے مفاد میں جو کچھ ضروری ہوا وہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سستی سیاست کے بجائے ریاست کے مفادات اور قومی معیشت کے تحفظ کو ترجیح دی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں کسی قسم کا خلل نہ آئے اور دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے عوام کو سستا ایندھن فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کسی ایک ملک یا حکومت تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر توانائی کے شعبے کو متاثر کر رہا ہے اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یکم مارچ کو ملک میں پٹرول کی قیمت تقریبا 260 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 270 سے 280 روپے فی لیٹر کے درمیان تھی اور اس وقت موجودہ جنگی صورتحال شروع نہیں ہوئی تھی۔

بعدازاں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک پر پڑے ہیں۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں نمایاں اتار چڑھا دیکھنے میں آیا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی منڈی کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہی ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے فیصلے قومی وسائل اور عوام کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور عالمی منڈی کی صورتحال بھی وزارت پٹرولیم کی جانب سے مسلسل مانیٹر کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ تنازع کے خاتمے کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی مدت سامنے نہیں آئی اس لیے حکومت انتہائی احتیاط کے ساتھ فیصلے کر رہی ہے تاکہ ایک طرف قومی معیشت اور زرمبادلہ کے وسائل کو تحفظ دیا جائے اور دوسری طرف عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے پٹرول ریلیف منصوبے کے تحت مستحق افراد کو پٹرول کی قیمت میں ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ اس منصوبے کے لیے تین ماہ کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور پہلے ماہ کے لیے 25 ارب روپے اسٹیٹ بینک کو فراہم کیے جا چکے ہیں تاکہ پٹرول پمپس کو بروقت ادائیگیاں کی جا سکیں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ ملک بھر میں 20 لاکھ سے زائد افراد اس ریلیف پروگرام کے لیے رجسٹریشن کرا چکے ہیں جبکہ پاکستان میں تقریبا ڈھائی کروڑ موٹر سائیکلیں سڑکوں پر موجود ہیں اس لیے حکومت کی کوشش ہے کہ ریلیف کا دائرہ زیادہ سے زیادہ مستحق شہریوں تک پہنچایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم ڈیلرز کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ریلیف پروگرام پر موثر اور شفاف انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت نے پٹرول پمپس کو بروقت رقوم کی ادائیگی کے لیے طریقہ کار وضع کیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک نے ریلیف اسکیم کے تحت موصول ہونے والے دعووں کو 48 گھنٹوں کے اندر نمٹانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے ملک بھر کے ہزاروں پٹرول پمپس کو ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور گزشتہ روز بھی کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کی گئی ہیں تاکہ ریلیف پروگرام پر عملدرآمد میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول پمپس اور ڈیلرز کو درپیش مسائل کے فوری ازالے کے لیے خصوصی نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔