ترجمان دفتر خارجہ کا کرنل (ر)حبیب ظاہر کی بھارتی تحویل اور کلبھوشن یادیو کیساتھ تبادلے سے متعلق قیاس آرائیوں و بھارتی میڈیا رپورٹس پر تبصرہ

اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ دو سال قبل نیپال میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر کیس میں دشمن ایجنسیوں کا ہاتھ خارج از امکان نہیں، حکومت ان کی بحفاظت بازیابی کیلئے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گی اور ان کی گھر واپسی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ بدھ کو کرنل (ر)حبیب کی بھارتی تحویل اور …

اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ دو سال قبل نیپال میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر کیس میں دشمن ایجنسیوں کا ہاتھ خارج از امکان نہیں، حکومت ان کی بحفاظت بازیابی کیلئے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گی اور ان کی گھر واپسی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ بدھ کو کرنل (ر)حبیب کی بھارتی تحویل اور کمانڈر کلبھوشن یادیو کیساتھ تبادلے سے متعلق قیاس آرائیوں و بھارتی میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ کرنل (ر)حبیب ریٹائرڈ پاکستانی افسر تھے جو اپریل 2017 میں ملازمت کے سلسلے میں نیپال گئے اور وہیں سے لاپتہ ہو گئے ۔ترجمان نے کرنل (ر)حبیب کی فیملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کرنل (ر)حبیب نے ملازمت کی غرض سے اپنی سی وی لنکڈ ان اور یو این ویب سائٹ پر پوسٹ کی تھی جس کے جواب میں انہیں مسٹر مارک نامی شخص کی جانب سے کال اور ای میل موصول ہوئی اور بتایا گیا کہ انہیں وائس پریذیڈنٹ کی ملازمت کیلئے شارٹ لسٹ کر دیا گیا ہے۔کرنل (ر)حبیب کو کہا گیا کہ وہ نیپال آجائیں اور6 اپریل 2017 کو انٹرویو کیلئے انہیں اومان ایئر لائن کا لاہور۔اومان،کھٹمنڈو کا فضائی ٹکٹ بھیج دیا گیا۔کرنل (ر)حبیب کا پوری زندگی میں نیپال کا یہ پہلا سفر تھا۔کھٹمنڈو پہنچنے کے بعد کرنل (ر)حبیب نے اپنے گھر والوں کو اپنی تصاویر اور بورڈنگ پاس واٹس ایپ کیں،بعد ازاں وہ بدھا ایئر لائن کے ذریعے نیپال کے لمبینی ایئر پورٹ روانہ ہو گئے۔6اپریل 2017کو کرنل (ر)حبیب نے ایک بجے اپنی اہلیہ کو سیل فون سے پیغام بھیجا کہ وہ بخیریت لمبینی ایئر پورٹ پہنچ گئے ہیں جو کہ بھارتی سرحد سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔اس کے بعد کرنل (ر)حبیب کا فون بند ہو گیا اور ان کے اپنے خاندان کیساتن رابطہ منقطع ہو گیا۔