اسلام آباد ۔ 5 اکتوبر (اے پی پی) وزیر اعظم ہاو س کے ترجمان نے جناح ماڈل ٹاون انکوائری میں معطل افسران کی بحالی کی خبروں سے متعلق اس امر کی وضاحت کی ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ جات سابق وزیر اعظم مجاز اتھارٹی نے کئے تھے،موجودہ حکومت کے پاس اس کی کوئی فائل آئی ہے نہ اس نے اس سلسلے میں کسی قسم کے احکامات جاری کئے ہیں …
ترجمان وزیر اعظم ہاو س کی وضاحت
مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 اکتوبر (اے پی پی) وزیر اعظم ہاو س کے ترجمان نے جناح ماڈل ٹاون انکوائری میں معطل افسران کی بحالی کی خبروں سے متعلق اس امر کی وضاحت کی ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ جات سابق وزیر اعظم مجاز اتھارٹی نے کئے تھے،موجودہ حکومت کے پاس اس کی کوئی فائل آئی ہے نہ اس نے اس سلسلے میں کسی قسم کے احکامات جاری کئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کی کرپشن کے خلاف زیر و ٹالرنس کی پالیسی ہے ایسے میں کسی سے رعایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی دو ماہ کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اس دوران ہونے والے فیصلے اور اقدامات میرٹ اور شفافیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جناح ماڈل ٹاون سکیم میرپور کے کنٹریکٹ معاہدہ کے سلسلے میں کی جانے والی پی ای سی قواعد وضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں کے سلسلے میں ملوث افسران کے خلاف لاپرواہی ،بدعنوانی ،خرد برد اور اختیار کا ناجائز استعمال کے الزام کی بناءپر چھان بین کے لیے سابق سیکرٹری اکرم سہیل کی سربراہی میں کمیٹی بنی ۔اس کمیٹی نے چوہدری محمد الیاس چیف انجینئر ہائی ویز ساوتھ ،ممبر ٹیکنیکل ایم ڈی اے چوہدری خالد سلطان ،ڈائریکٹر ورکس ایم ڈی اے مظفر حسین ،ڈپٹی ڈائریکٹر ورکس ایم ڈی اے اور محمد سلیم ڈویژنل اکاونٹنٹ کو ملازمت سے معطل کرتے ہوے سپیشل پاور ایکٹ کے تحت انضباطی کارروائی عمل میں لائے جانے کی منظوری دی ۔ترجمان کے مطابق اسی تسلسل میں سابق سیکرٹری سروسز عبدالسمیع خان اور محمود خان سیکرٹری ہائر ایجوکیشن پر مشتمل دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کی رپورٹ پر سابق وزیرا عظم مجاز اتھارٹی نے افسران کو ذاتی سماعت کا موقع دیا اور انکوائری کمیٹی کی تجویز کردہ سزاوں سے اتفاق نہ کرتے ہوے مجوزہ سزاوں میں تخفیف کے احکامات دیئے ۔








