پیرس ۔ 12 نومبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرز نے کہا ہے کہ ترقی کی منازل حاصل کرنے کے لئے دنیا میں کثیرالجہتی کو فروغ دینا ہوگا اور یہ یاد رکھنا ہو گا کہ آج دنیا کو تنازعات کی وجہ سے سیمصائب ، نقل مکانی اور بد امنی کے مسائل کا سامنا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے حوالہ سے پیرس امن فورم سے …
ترقی کی منازل حاصل کرنے کے لئے کثیرالجہتی کو فروغ دینا ہوگا، انتونیو گوئٹرز

مزید خبریں
پیرس ۔ 12 نومبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرز نے کہا ہے کہ ترقی کی منازل حاصل کرنے کے لئے دنیا میں کثیرالجہتی کو فروغ دینا ہوگا اور یہ یاد رکھنا ہو گا کہ آج دنیا کو تنازعات کی وجہ سے سیمصائب ، نقل مکانی اور بد امنی کے مسائل کا سامنا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے حوالہ سے پیرس امن فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا نہ تو دو قطبی ، یک قطبی یا کثیر قطبی ہے بلکہ یہ اس وقت افراتفری اور بے یقینی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں جنگیں صرف ممالک کے درمیان ہی نہیں ہوتیں ممالک کو غیر ریاستی عناصر سے بھی لڑنا ہوتا ہے ،انہوں نے کہا کہ اب جنگوں کے خاتمہ کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا اور چاڈ کی طر ح دنیا میں نئی قسم کی دہشت گردی ہے، ایٹمی پھیلائو بھی بڑا مسئلہ ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنر ل نے ان مسائل کے بنیادی اسباب کے حل اور نئی جنگوں کی روک تھام پر زور دیا اورکہاکہ ان ایشوز کے حل کے لئے بین الاقوامی تعاون واحد ذریعہ ہے اوربحرانوں کا خاتمہ ، ثالثی ، انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے فریم ورک ، امن اور بین الاقوامی سیکورٹی کے لئے موئثر کوششیں اقوام متحدہ کی اصلاحات میں مرکزی اہمیت کی حامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا دو بڑے معاشی ممالک کے درمیان تقسیم ہے اور ایک ملک دوسرے پر اپنے مالیاتی اور معاشی ضوابط مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بڑی تقسیم سے بچنا ہوگا اور عالمی نظام کے ساتھ عالمگیر معشت کا تحفظ کرنا ہوگا جہاں ٹھوس کثیر الجہتی اداروں کے ساتھ بین الاقوامی قانون اور کثیر ال قطبی دنیا کا احترام ہو۔انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کو پانچ بڑے خطرات کا سامنا ہے۔ اول ، معاشی ، تکنیکی اور جیوسٹریٹجک فالٹ لائن، اس سے دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوتی نظر آتی ہے ، دو بڑی بڑی معیشتوں کے مابین دنیا کو تقسیم کیا جاتا ہے ، ہر ایک اپنے مالی اور معاشی اصول اپنے اثر و رسوخ پر مسلط کرتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس ‘زبردست فریکچر’ سے بچنے اور عالمی نظام ، ایک عالمی معیشت کو محفوظ رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی جو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری بھی ہے ۔








