تشدد انسانیت کیخلاف سنگین جرم ہے، تحریک شباب المسلمین

تشدد انسانیت کیخلاف سنگین جرم ہے، تحریک شباب المسلمین

اسلام آباد۔26جون (اے پی پی):تحریک شباب المسلمین جموں و کشمیرنے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، ماورائے عدالت تشدد، دوران حراست اموات اور کشمیری حریت قیادت و کارکنان کے خلاف جاری ظلم و جبر کی شدید مذمت کی ہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تشدد کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر تحریک شباب المسلمین کے وائس چیئرمین مشتاق احمد بٹ نے ایک بیان میں عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیرکے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاستی تشدد، ظلم و جبر، خوف اور غیر انسانی سلوک کا شکار ہیں۔

بھارتی قابض فورسز اور تحقیقاتی اداروں کے زیرِ انتظام قائم سینکڑوں حراستی مراکز، تفتیشی سیلوں اور عقوبت خانوں میں ہزاروں کشمیری نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں کو جسمانی اور ذہنی تشدد سے گزارا جاتا ہے۔ ان مراکز میں ہونے والے تشدد کی داستانیں انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں، جہاں قیدیوں کو طویل تنہائی، شدید جسمانی تشدد، تضحیک آمیز سلوک اور دیگر غیر انسانی ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مظالم کے نتیجے میں بے شمار کشمیری نوجوان مستقل معذوری کا شکار اور سینکڑوں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوئے جبکہ ہزاروں افراد آج بھی جسمانی اور ذہنی اذیتوں کے اثرات کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ انسانی حقوق کی متعدد بین الاقوامی تنظیموں، صحافتی اداروں اور مبصرین نے اپنی رپورٹس میں مقبوضہ کشمیر میں تشدد، جبری گمشدگیوں، دوران حراست قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے، مگر افسوس کہ عالمی طاقتوں کی خاموشی اور دوہرے معیار نے بھارت کو جوابدہی سے بچائے رکھا ہے۔ یہی خاموشی مظلوم کشمیری عوام کے خلاف مزید ظلم و جبر کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے عدالتی اور تحقیقاتی ادارے بھی کشمیریوں کے معاملے میں غیر جانبداری اور انصاف کے بنیادی اصولوں پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ بھارت کی مختلف جیلوں اور حراستی مراکز میں اس وقت درجنوں ممتاز کشمیری حریت رہنما اور کارکن انتہائی نامساعد حالات میں قید ہیں۔ ان میں مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ،یاسین ملک ،آسیہ اندرابی، مولوی بشیر عرفانی، نعیم خان، ایاز اکبر، غلام قادر بٹ اور دیگر بے شمار حریت قائدین شامل ہیں۔ کشمیری عوام کو خدشہ ہے کہ مسلسل غیر انسانی سلوک، طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور طویل نظربندی ان رہنمائوں کی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی متعدد کشمیری رہنما حراست کے دوران جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں محمد اشرف خان صحرائی اور الطاف احمد شاہ نمایاں ہیں۔ یہ واقعات عالمی برادری کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید انسانی المیے جنم لے سکتے ہیں۔

مشتاق احمد بٹ نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، عالمی ریڈ کراس اور دیگراداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی جیلوں، حراستی مراکز اور تفتیشی سیلوں میں کشمیری اسیران سے براہِ راست ملاقات کریں ، ان کے حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور ذمہ دار عناصر کو بین الاقوامی قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرائیں۔

انہوں نے کہا کہ تشدد کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول جرم ہے اور کشمیری عوام کے خلاف ہونے والے مظالم کو نظر انداز کرنا عالمی انسانی حقوق کے نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔