اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں ایک اہم فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کے قتل کے مقدمے میں شوہر خُورشید احمد کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تشدد کو طبعی موت کا رنگ دینا ناقابلِ قبول ہے اور ریکارڈ پر موجود شواہد واضح طور پر قتل کی نشاندہی کرتے ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تحریری تفصیلی …
تشدد کو طبعی موت کا رنگ دینا ناقابلِ قبول ہے ،سپریم کورٹ آف پاکستان

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں ایک اہم فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کے قتل کے مقدمے میں شوہر خُورشید احمد کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تشدد کو طبعی موت کا رنگ دینا ناقابلِ قبول ہے اور ریکارڈ پر موجود شواہد واضح طور پر قتل کی نشاندہی کرتے ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہوار اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 26 نومبر 2025 کو سنایا، جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق خُورشید احمد کو ٹرائل کورٹ نے اپنی بیوی گلشن بی بی کے قتل کے جرم میں دفعہ 302(b) تعزیراتِ پاکستان کے تحت عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ، راولپنڈی بینچ نے قتلِ عمد کی سزا کو تبدیل کرتے ہوئے جرم کو قتلِ شبہِ عمد (دفعہ 316 PPC) قرار دیا اور مجرم کو 10 سال قید اور 20 لاکھ 55 ہزار 936 روپے بطور دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مقتولہ کے جسم پر تشدد کے متعدد اور سنگین نشانات موجود تھے، جن کی مکمل تصدیق میڈیکل شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خاتون کی موت شدید جسمانی تشدد کے باعث ہونے والے hypovolemic shock کے نتیجے میں واقع ہوئی، جبکہ زہر یا کسی نشہ آور شے کے استعمال کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔عدالت نے مقتولہ کے کم سن بیٹے محمد علی خان کے بیان کو بھی غیر معمولی اہمیت دی، جس نے مستقل اور واضح انداز میں گواہی دی کہ اس کے والد اور ایک اور شخص نے اس کی والدہ کو لکڑی کے تختے سے تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گئیں۔ عدالت کے مطابق بچے کی گواہی قابلِ اعتماد ہے اور اس کے سکھائے جانے یا جھوٹ بولنے کا کوئی ثبوت ریکارڈ پر موجود نہیں۔
سپریم کورٹ نے مجرم کے اس مؤقف کو بھی مسترد کر دیا کہ موت طبعی تھی یا وہ وقوعہ کے وقت موقع پر موجود نہیں تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر موت قدرتی ہوتی تو شوہر کا فرض تھا کہ فوری طور پر طبی امداد حاصل کرتا یا اہلِ خانہ اور پولیس کو اطلاع دیتا، تاہم اس کے برعکس ملزم کا رویہ مشکوک رہا اور اس نے ذمہ داری سے گریز کیا۔فیصلے میں عدالت نے گھریلو تشدد کے سماجی پہلو پر بھی گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اکثر بیٹیوں کو مسلسل تشدد کے باوجود واپس اسی ماحول میں بھیج دیا جاتا ہے، جو بالآخر ان کی جان لے لیتا ہے، اور ایسے واقعات کی روک تھام ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
عدالت نے اپیل مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مجرم مقررہ مدت کے اندر دیت کی رقم مقتولہ کے ورثا کو ادا کرے، جو پانچ سال میں تین مساوی اقساط میں ادا کی جائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ دیت کی ادائیگی کے لیے ضمانتیں فراہم کرنے کی صورت میں مجرم کو ضمانت پر رہا کیا جائے گا، بصورتِ دیگر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔








