لاہور۔10 مارچ(اے پی پی )وفاقی وزیر تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ شفقت محمود نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کا اہم مقصد غربت کا خاتمہ ہے، ملک مےں یکساں نظام تعلیم کے لئے کام کر رہے ہیں امیر اور غریب کے بچے کو ایک ہی نصاب پڑھایا جائے گا،وہ اتوار کے روز مقامی ہوٹل میں امیر بیگم ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام طلبہ کی تعلیمی سرپرستی کے حوالے سے …
تعلیم اور صحت کے شعبوں پر توجہ دیئے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود

مزید خبریں
لاہور۔10 مارچ(اے پی پی )وفاقی وزیر تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ شفقت محمود نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کا اہم مقصد غربت کا خاتمہ ہے، ملک مےں یکساں نظام تعلیم کے لئے کام کر رہے ہیں امیر اور غریب کے بچے کو ایک ہی نصاب پڑھایا جائے گا،وہ اتوار کے روز مقامی ہوٹل میں امیر بیگم ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام طلبہ کی تعلیمی سرپرستی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ، اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب سید صمصام شاہ بخاری ،میاں منظور احمد وٹو و دیگر شخصیات بھی موجود تھیں،تقریب میں امیر بیگم ویلفیئر ٹرسٹ ہر سال” اسپانسر اے اسٹوڈنٹ پروگرام “ کے تحت مستحق اور لائق طالب علموں کو وضائف دیئے گئے اور ٹرسٹ کے زیر اہتمام فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کو میڈل سے نوازا گیا۔وفاقی وزےر نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں ذہین اور محنتی بچے محض غربت اور مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے میٹرک کے بعد تعلیم کا سلسلہ ختم کرنے پہ مجبورہو جاتے ہیں ےہ بات خوش آئند ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے اب تک ہزاروںطلباءو طالبات اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں، شفقت محمود نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کو تعلیم،صحت سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کےلئے اقدامات کر رہی ہے، عوام دوست پالےسےوں کی بدولت عوام کا حکومت پر اعتماد بحال ہو گا، سید صمصام بخاری نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے دو شعبے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں تعلیم اور صحت کے شعبوں پر توجہ دیئے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ان دونوں شعبوں پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے عمران خان کے ویژن کے مطابق 80 فیصد وقت تعلیم اور صحت پر خرچ کر رہے ہیں۔ تبدیلی لانی ہے تو تعلیم کے میدان میں لانی ہو گی۔ میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ جب بھی موقع ملا ہم نے تعلیم کے فروغ کے لئے کام کیا وزارتِ اعلیٰ کے زمانے میں طبقائی نظام تعلیم کے خاتمے کے لئے پہلی جماعت سے انگریزی لازمی کی انگریزی پڑھانے کے لئے 50 ہزار گریجوایٹ اساتذہ کی بھرتی کی۔ لازمی تعلیم کا ایکٹ پاس کیا مجسٹریٹ کو بچوں کو سکول نہ بھیجنے والے والدین سے باز پرس کا اختیار دیا۔ بعد میں آنے والی حکومتوں نے اُس پر عملدرآمد نہ کیا اگر اُس پر عمل کرتی تو آج خواندہ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کے علاوہ بچیوں کی اجتماعی شادیوں پر بھی کام کیا اب تک ایک ہزار بچیوں کی اجتماعی شادیاں کروائی جا چکی ہیں۔ دیپالپور میں ڈائیلسز سنٹر قائم کیا جس میں سالانہ 7 ہزار مریضوں کے ڈائیلسز ہو رہے ہیں۔ ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک سو بچے فارغ التحصیل ہو کر مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔








