فیصل آباد۔ 21 جون (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ پنجاب ڈاکٹر ساجد الرحمن نے بتایا کہ امسال تل کی برآمدات 4سو ملین ڈالرز سے تجاوز کر گئی ہیں اورپاکستان تلوں کی پیداوار کے حوالہ سے ٹاپ 5 ممالک میں شامل ہو گیا ہے جبکہ اب بھی تل کی پیداوار میں اضافہ کی وسیع گنجائش موجود ہے جس کیلئے حکومت تل کے کاشتکاروں کو تمام ممکن معاونت فراہم کررہی ہے۔ …
تل کی برآمدات 4سو ملین ڈالرز سے تجاوز ،پاکستان تلوں کی پیداوار کے حوالے سے ٹاپ 5 ممالک میں شامل

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 21 جون (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ پنجاب ڈاکٹر ساجد الرحمن نے بتایا کہ امسال تل کی برآمدات 4سو ملین ڈالرز سے تجاوز کر گئی ہیں اورپاکستان تلوں کی پیداوار کے حوالہ سے ٹاپ 5 ممالک میں شامل ہو گیا ہے جبکہ اب بھی تل کی پیداوار میں اضافہ کی وسیع گنجائش موجود ہے جس کیلئے حکومت تل کے کاشتکاروں کو تمام ممکن معاونت فراہم کررہی ہے۔
ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے شعبہ آئل سیڈ کے زیر اہتمام تل کی فصل کی بہتر دیکھ بھال بارے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے شعبہ تیلدار اجناس کے زرعی سائنسدانوں نے تل کی فی ایکڑ زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اقسام متعارف کروائی ہیں جو پاکستان میں 90 فیصد سے زائد رقبہ پر انتہائی کامیابی سے کاشت ہورہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھ کر زرعی سائنسدان تل جیسی منافع بخش فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کریں تاکہ ملکی زرعی برآمدات میں مزید اضافہ اور ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہو۔انہوں نے کہاکہ پاک چائنا فری ٹریڈ کے ذریعے دھان، تل، مرچ، پھل و دیگر زرعی اجناس کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ تل کی متعارف کردہ نئی اقسام کی کاشت کے فروغ، کاشتکاروں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، بہتر مارکیٹنگ اور ایکسپورٹ کے باعث گذشتہ 2 سے 3 سال کے اندر تل کا زیر کاشت رقبہ 10 لاکھ ایکڑ سے تجاوز کر کے18لاکھ ایکڑ تک پہنچ گیا ہے جو خوش آئند بات ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ڈاکٹر اطہر حسین کھوکھرنے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں پاکستان نے پھلوں، سبزیوں، چاول، تل اور دیگر زرعی اجناس کی ایکسپورٹ سے 8 ارب ڈالرز سے زائد کا قیمتی زرمبادلہ کمایا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال تل کے زیر کاشت رقبہ میں 277 فیصد اور پیداوار میں 300 فیصد تک اضافہ نوٹ کیا گیا۔ انہوں نے بتایاکہ چائناکے علاوہ کوریا، ویتنام، سعودیہ اور یورپی ممالک میں تل کی برآمدات کے فروغ کیلئے وفود بھجوائے گئے ہیں لہٰذاان ممالک کوامسال تل کی برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ کاحصول ممکن ہو گا۔
ڈائریکٹر جنرل زراعت پیسٹ وارننگ پنجاب ڈاکٹر عامر رسول نے کہاکہ تل کی فصل کے ضرر رساں کیڑوں اور بیماریوں کے کنٹرول کیلئے نئی کیمسٹری کی حامل زہروں کے استعمال کے ذریعے کیمیائی زہروں کے مضر اثرات سے پاک اعلیٰ کوالٹی کے حامل تلوں کی زیادہ پیداوار کے حصول کو ممکن بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ زہروں کے اثرات سے پاک ایکسپورٹ کوالٹی کے تل پیدا کرکے پاکستان کی تلوں کی ایکسپورٹ کو ایک سے دو سال کے اندر 3 ارب ڈالرز تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ چیف سائنٹسٹ شعبہ تیلدار اجناس ڈاکٹر احسان محی الدین نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کاشتکارتل کی بیماریوں کے بروقت کنٹرول کیلئے ادارہ کے زرعی سائنسدانوں سے قریبی رابطہ رکھیں۔انہوں نے تلوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ان میں 28 ملی گرام فی کلوگرام کیلشیم، 23 ملی گرام فی کلوگرام فولاد اور 13 ملی گرام فی کلو گرام تانبا پایا جاتا ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی کے علاوہ جوڑوں کے درد کے خاتمہ میں معاون ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ تل کے بیج میں 50 فیصد سے زائد اعلیٰ خصوصیات کا حامل خوردنی تیل اور 22 فیصد اچھی قسم کی حامل پروٹین پائی جاتی ہے جبکہ تلوں کا تیل ادویات سازی اور اعلیٰ قسم کے صابن، عطریات بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔اسی طرح تلوں کا استعمال کاربن پیپر، تلوں والے نان بنانے کے علاوہ فاسٹ فوڈز، بیکری مصنوعات اور مویشیوں اور مرغیوں کی متوازن خوراک بنانے میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ماہر تیلدار اجناس حافظ سعد بن مصطفی نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں چائناکا دورہ کرنے والے وفد کی بریفنگ کے دوران چائنا کے زرعی ماہرین نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے شعبہ آئل سیڈ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ادارہ کے زرعی سائنسدانوں کی تحقیقی کاوشوں کے متعلق مثبت خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ زرعی سائنسدانوں نے اپنی شبانہ روز کاوشوں کے بعد تل کی شاخدار اقسام اور انکی جدید پیداواری ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تل کی فصل پانی کی کمی یا زیادتی، زمین کی قسم، فی ایکڑ پودوں کی تعداد، مرطوب درجہ حرارت میں کمی و بیشی اور برداشت میں تاخیر کے حوالہ سے بہت حساس فصل ہے لہٰذا ان مشکلات پر قابو پا کر کامیاب فصل کا حصول ممکن ہے۔ معروف زرعی سائنسدان تیلدار اجناس ڈاکٹر سلسبیل رؤف نے ورکشاپ میں کاشتکاروں کو بتایا کہ تل کی فصل مئی سے جولائی تک بطور زائد خریف فصلوں کے طور پر کامیابی سے کاشت کی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تل کی فصل کم دورانیہ کی فصل ہونے کی وجہ سے فصلوں کے ہیر پھیر میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے کاشتکاروں کو سفارش کی کہ تل کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے انمول 2023، فیصل آباد تل، ٹی ایچ6، ٹی ایس5 اور تل18 کاشت کریں۔چوہدری مقصود احمد جٹ اور رانا محمد احمد خان نے کاشتکاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے بتایا کہ چائنا کی کمپنیاں پاکستان میں زراعت کے فروغ کیلئے اپنی خدمات فراہم کررہی ہیں جبکہ چائنا اور پاکستان کنو کے علاوہ کپاس، دھان اور تل کی نئی اقسام کے جرم پلازم کا باہمی تبادلہ کر رہے ہیں جس سے پاکستان میں زرعی تحقیق میں جدت آئے گی نیزچائناکے تعاون سے پاکستان میں فارم میکنائزیشن اور کارپوریٹ فارمنگ کی راہ ہموار ہوگی جس سے کاشتکاری ایک منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کرجائے گی۔
ورکشاپ میں چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم ڈاکٹر جاوید احمد،ماہر تیلدار اجناس محمد ریاض چیف سائنٹسٹ شعبہ سائل کیمسٹری، ڈاکٹر محمد نسیم پرنسپل سائنٹسٹ سائل بیکٹیریالوجی، ڈاکٹر عابد نیازصدر پوٹیٹوگروئرز ایسوی ایشن، چوہدری مقصود احمد جٹ، کاشتکار رہنما رانا محمد احمد خان، ماہر تیلدار اجناس ڈاکٹر اعجاز الحسن، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت انفارمیشن فیصل آباد محمد اسحاق لاشاری، محکمہ زراعت توسیع کے فیلڈ افسران وزرعی سائنسدانوں، کاشتکاروں، پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں کے نمائندگان، سی میک پاکستان کے نمائندگان کے علاوہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔








