وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے کہاہے کہ تمام شعبوں میں ترقی کو فروغ دینے اور عوامی خدمات میں بہتری لانے کیلئے وفاقی حکومت ڈیجیٹل گورننس، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل معاشرہ کے تین بنیادی ستونوں پر قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان کو آگے بڑھا رہی ہے
تمام شعبوں میں ترقی کو فروغ دینے اور عوامی خدمات میں بہتری لانے کیلئے وفاقی حکومت قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان کو آگے بڑھا رہی ہے،وفاقی وزیراقتصادی امور سینیٹر احد چیمہ کاپاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی سے متعلق اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے کہاہے کہ تمام شعبوں میں ترقی کو فروغ دینے اور عوامی خدمات میں بہتری لانے کیلئے وفاقی حکومت ڈیجیٹل گورننس، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل معاشرہ کے تین بنیادی ستونوں پر قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان کو آگے بڑھا رہی ہے ، ماسٹر پلان کو وزیراعظم کے ساتھ ہونے والے صوبائی وزرائے اعلی کے آئندہ مشاورتی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرکے اس پر غور کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔انہوں نے یہ بات پیرکویہاں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (پی ڈی اے) سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ، چیئرمین پی ڈی اے ڈاکٹر سہیل منیر اور متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیلی سے حکومتی امور میں قابلِ پیمائش نتائج سامنے آنے چاہییں اور ہر شعبے کی ترقی میں مدد ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی اے کے شعبہ وار منصوبوں میں قابلِ عمل اہداف اور حقیقت پسندانہ مدت تکمیل واضح ہونی چاہیے۔ صحت، تعلیم، تجارت اور دیگر شعبوں سے متعلق ان منصوبوں کا جائزہ اتھارٹی کے آئندہ اجلاس میں لیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے تعلیم کے شعبے میں تعلیمی اداروں کے ذریعے جدید ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتیں سکھانے کے لیے مربوط لائح عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پرائمری اور مڈل جماعتوں کے طلبہ سمیت نئی نسل کو باقاعدہ تعلیمی نظام کے تحت مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں سکھائی جائیں اور اس مقصد کے لیے جدید علم اور تدریسی طریقوں سے استفادہ کیا جائے۔صحت کے شعبے میں اجلاس کے دوران مریضوں کے یکساں ڈیجیٹل ریکارڈ اور رجسٹری کے قیام پر بھی گفتگو ہوئی، تاکہ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں مریضوں کی طبی تاریخ اور علاج کا ریکارڈ محفوظ رکھا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کمپیوٹرائزڈ، شناختی کارڈ پر مبنی نظام سے مریضوں کا ریکارڈ باآسانی دستیاب ہوگا اور علاج کے تسلسل میں مدد ملے گی۔پی ڈی اے نے ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل اور قابل اعتماد ڈیٹا کے حصول و استعمال میں سہولت کے لیے وزارتوں اور ڈویژنز میں مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور ڈیجیٹل مہارت رکھنے والے فوکل پرسنز کی تعیناتی کی ضرورت اجاگر کی۔ سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ وزارتوں میں آئی ٹی سے متعلق امور انجام دینے والے موجودہ عملے کو بھی ان ذمہ داریوں کے لیے تربیت دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے پاس ای آفس کے نفاذ کے بعد دستیاب ہونے والے اہلکاروں کا ایک پول موجود ہے جنہیں تربیت دے کر حکومتی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ عملے سے متعلق مزید مشاورت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ساتھ کی جائے گی۔اجلاس میں بتایاگیا کہ پی ڈی اے نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ این آئی ٹی بی کے اشتراک سے تربیت فراہم کرنے پر اتفاق کیا اور وفاقی ڈویژنز میں ڈیجیٹل استعداد بڑھانے کے لیے کام جاری ہے۔وفاقی وزیر نے وزیراعظم کے فیول ریلیف اسکیم کے اجرا میں پی ڈی اے کے کردار اور پی ایم او ایس سسٹم سمیت دیگر اقدامات میں اس کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اتھارٹی کی کاوشوں کا دائرہ حکومت کے مزید شعبوں تک بڑھایا جائے۔اجلاس میں قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان کے حوالے سے صوبائی آئی ٹی محکموں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے ہونے والی مشاورت پر بھی بات ہوئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس کامقصد صوبائی دائر اختیار میں مداخلت کرنا نہیں بلکہ قومی ڈیجیٹل فریم ورک کے تحت ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے مختلف شعبوں میں ڈیٹا اور رجسٹریوں کے حوالے سے بہتر رابطہ کاری سے سرکاری اداروں کو مستند معلومات تک رسائی اور عوامی خدمات کی موثر منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔








