چیئرمین پاکستان علما کونسل و کوآرڈینیٹر وزیر اعظم و قومی پیغام امن کمیٹی حکومت پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ چند سال قبل بھی ہم نے مل کر افطار کا اہتمام کیا تھا۔
تمام مسالک و مذاہب کے قائدین کی عالمی طاقتوں سے اپیل ، جنگوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ طاہر محمود اشرفی

مزید خبریں
لاہور۔16مارچ (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علما کونسل و کوآرڈینیٹر وزیر اعظم و قومی پیغام امن کمیٹی حکومت پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ چند سال قبل بھی ہم نے مل کر افطار کا اہتمام کیا تھا۔پاکستان کے تمام مسالک اور مذاہب کے قائدین عالمی طاقتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ جنگوں کا سلسلہ بند کیا جائے ، جنگیں تباہی اور نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کویہاں مقامی ہوٹل میں بین المذاہب افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اس پلیٹ فارم ہم سب عالمی رہنماوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ایران کے خلاف کشیدگی کم کی جائے۔عراق اور دیگر عرب و اسلامی ممالک میں جاری تنازعات کو روکا جائے اور فلسطین میں ظلم و تشدد بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عبادت کے دن ہیں مگر عبادت گاہیں بند کی جا رہی ہیں۔
عبادت گاہوں کا کیا جرم ہے کہ انہیں بند کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جنگیں بند کی جائیں اور مذہب کے نام پر تشدد ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اللہ کے فضل سے مکمل طور پر مثالی تو نہیں لیکن ہم ایک دوسرے کے دکھ اور خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔جب بھی کسی بھائی کو تکلیف پہنچتی ہے، تو سب آگے بڑھ کر ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کہیں بھی سانحہ ہو تو ہم فورا ًمتاثرہ مقام پر پہنچتے ہیں،مساجد کھلی رکھی جاتی ہیں اور لوگ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں ، بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مسالک کے افراد نے مل کر امن کا پیغام دیا اور وفاقی حکومت نے وزیراعظم پاکستان کے حکم پر پیغامِ امن کمیٹی قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے اہم قدم ہے،ہم حکومتی قیادت کے اس اقدام پر شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعات میں سب نے مل کر مدد کی اور تمام مکاتبِ فکر کے لوگ مشکل وقت میں متاثرین کے پاس پہنچے۔خون دینے والوں نے مذہب نہیں دیکھا بلکہ انسانیت کو ترجیح دی اور قوم نے اتحاد کا ثبوت دیا۔ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہمارا مشن پیغامِ پاکستان ہے،ہم اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے عقائد کا احترام کرتے ہیں۔پاکستان میں چرچز، مساجد اور مندروں کو آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے مذہبی قائدین دنیا سے امن کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔امریکہ، ایران اور یورپی یونین سمیت عالمی طاقتوں سے بھی امن کی اپیل کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ پاکستان کی قیادت نے حالیہ کشیدگی میں مثبت کردار ادا کیا۔سعودی عرب سمیت برادر ممالک سے رابطے کیے اور خطے میں جنگ کے ماحول کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگوں کے خاتمے، امن و استحکام اور ترقی کے خواہاں ہیں۔فلسطینیوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ کشمیریوں کو حقِ خودارادیت ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بے گناہ شہری مارے جا رہے ہیں،ظلم کرنے والا یہ نہیں دیکھتا کہ کون کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران میں 165بچیاں سکول گئیں اور شہید کر دی گئی ان کا کیا قصور تھا۔
ایران اور فلسطین میں فوری طور پر جنگ بند ہونی چاہیے ۔فلسطین میں مسجد اقصی عبادت کیلئے بند ہے،ہم ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ہم دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ آگے بڑھیں اور امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ آج کا پیغام امن، اتحاد اور انسانیت کا پیغام ہے۔ اس موقع پر صدر چرچ آف پاکستان بشپ آزاد مارشل اور دیگر مکاتب فکر و مذاہب کے قائدین نے بھی خطاب کیا ۔








