اسلام آباد ۔ 23 ستمبر (اے پی پی)پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، کرفیو کی وجہ سے بچے تعلیمی ادار وں میں نہیں جا رہے۔ پیر کو یہاں”کشمیر پکار رہا ہے“ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ …
تنازعہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے،پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 ستمبر (اے پی پی)پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، کرفیو کی وجہ سے بچے تعلیمی ادار وں میں نہیں جا رہے۔ پیر کو یہاں”کشمیر پکار رہا ہے“ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاریخ میں دیکھا جائے تو انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے برطانوی نظام نافذ کیا،کانگریس کی بنیاد ہیوم نے رکھی جبکہ مسلم لیگ کی بنیاد آغا خان نے رکھی، برطانیہ نے دنیا کے سمندروں پہ حکومت کی۔ سید فخر امام نے کہا کہ برصغیر میں جنگ عظیم کے بعد مقامی سیاسی جدو جہد نے طول پکڑا، سرسید احمد خان نے مسلمانوں کے تشخص کے لئے کام کیا۔1935ءمیں انڈین ایکٹ نافذ ہوا جو پورے جنوبی ایشیاءکے قانون کی بنیاد ہے، بھارت یا پاکستان ہی نہیں سری لنکا اور نیپال بھی اس ایکٹ سے متاثرہ ہیں۔ موجودہ مسائل کو سمجھنے کے لئے تاریخ کا علم بہت ضروری ہے، برصغیر کا اصل مسئلہ نو آبادیاتی اور بادشاہت تضاد تھا، کانگریس کسی صورت بھی کسی مسلمان کو پاور میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ سید فخر امام نے کہا کہ قائد اعظم دور اندیش تھے انہیں انگریز کے جانے کے بعد مسلمانوں کی حالت صاف نظر آرہی تھی، پنجاب میں انتخابات ہوئے مسلم لیگ بھاری اکثریت سے جیتی۔ انہوں نے کہا کہ انگریز کے آنے سے پہلے بھارت اور چین دنیا کا 40 فیصد جی ڈی پی بنارہے تھے،کابینہ مشن پلان کو قائد نے فوراً مان لیا لیکن کانگریس نے یکسر مسترد کردیا تھا۔







