توانائی کے مراکز پر اسرائیلی حملے دی گئی مہلت کے منافی ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سٹیل اور توانائی کی صنعتوں پر اسرائیلی حملے سفارت کاری کے لیے صدر ٹرمپ کی دی گئی مہلت کے منافی ہیں۔

تہران۔28مارچ (اے پی پی):ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سٹیل اور توانائی کی صنعتوں پر اسرائیلی حملے سفارت کاری کے لیے صدر ٹرمپ کی دی گئی مہلت کے منافی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کو ان جرائم کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ العربیہ کے مطابق "ایکس”پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے دو بڑے سٹیل پلانٹس، ایک بجلی گھر اور شہری جوہری تنصیبات سمیت دیگر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے ۔اسرائیلی فوج نے وسطی ایران میں اراک کے قریب ’’ہیوی واٹر‘‘ پلانٹ اور یزد صوبے میں یورینیم کنسنٹریٹ پلانٹ کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) نے کہا ہے کہ ایران نے یزد میں حملے کی اطلاع دی ہے تاہم تابکاری کے اخراج میں کوئی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں دو بڑے سٹیل پلانٹس کو نقصان پہنچا ہے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ حملے نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائيل کاٹز کے براہ راست احکامات پر کیے گئے۔

جواب میں پاسداران انقلاب نے خطے میں امر یکا اور اسرائیل سے وابستہ صنعتی کمپنیوں کو کام کی جگہیں خالی کرنے کی وارننگ جاری کی ۔امریکی صدر نے ایران میں توانائی کے مراکز پر حملوں کی مہلت میں 6 اپریل تک 10 دن کی توسیع کی ہے اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ بمباری رکوانے کے لیے معاہدہ کرے ورنہ مزید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔