تھنک ٹینک کا برآمدات کے فروغ کیلئے امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ بہتر شراکت داری کی ضرورت پر زور

اسلام آباد۔27مارچ (اے پی پی):پاکستان کے اعلیٰ قومی ماہرین اور معروف کاروباری شخصیات پر مشتمل تھنک ٹینک نے امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری کو مزید بڑھانے اور سہ فریقی تجارت کے فروغ اور افغانستان کے راستے وسطی ایشیا کے ساتھ روابط بڑھانے کی فوری اہمیت پر زور دیا ہے۔ اتوار کو لاہور چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر مہر کاشف یونس کے زیر اہتمام ”دنیا کے ساتھ …

اسلام آباد۔27مارچ (اے پی پی):پاکستان کے اعلیٰ قومی ماہرین اور معروف کاروباری شخصیات پر مشتمل تھنک ٹینک نے امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری کو مزید بڑھانے اور سہ فریقی تجارت کے فروغ اور افغانستان کے راستے وسطی ایشیا کے ساتھ روابط بڑھانے کی فوری اہمیت پر زور دیا ہے۔ اتوار کو لاہور چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر مہر کاشف یونس کے زیر اہتمام ”دنیا کے ساتھ تجارتی تعلقات کا فروغ“ کے موضوع پر ورکشاپ کی صدارت کرتے ہوئے صدر سارک چیمبر اور بانی چیئرمین پاک یو ایس بزنس کونسل افتخار علی ملک نے امریکہ اور یورپی یونین کے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی خطے کے ساتھ روابط استوار کرنے کے لیے پاکستان کو مالی معاونت فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی روابط کے لیے خیبر پاس اکنامک کوریڈور اور کاسا 1000 جیسے اہم منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ انہوں نے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے امریکی ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور نجی شعبے کے ذریعے مزید مالی وسائل کی فراہمی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستان تقریباً 30 بلین ڈالر مالیت کی غیر ملکی فنڈنگ سے مختلف شعبوں میں منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے 2010 سے پاکستان کے ساتھ بہتر شراکت داری معاہدے کے تحت امریکہ کی 4.2 بلین ڈالر کی امداد کو سراہا۔ انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن پر زور دیا کہ وہ پاکستانی معیشت کی مضبوطی کے لیے اس کی مصنوعات کو براہ راست منڈیوں تک رسائی فراہم کریں کیونکہ پاکستان کو خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ٹریلین ڈالر کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی لازوال قربانیوں، انفراسٹرکچر کی تباہی اور بڑے پیمانے پر مالی و جانی نقصانات کا اعتراف کرتی ہے۔ پاک امریکہ تجارتی امکانات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ مالی سال 2021-22 کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ رہی جو مالی سال 2020۔21 کے 2.27 بلین ڈالر کے مقابلے میں 45.95 فیصد اضافہ کے ساتھ 3.32 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ سال 2019 کے دوران امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارتی شراکت داری 6.6 بلین ڈالر رہی اور پاکستان امریکہ کا 56 واں بڑا تجارتی شراکت دار تھا جبکہ پاکستان کا تجارتی خسارہ 1.3 بلین ڈالر رہا۔

مہر کاشف یونس نے پاکستانی برآمدات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں چین دوسرے نمبر پر ہے اور چین کو برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت میں 837.91 ملین ڈالر سے 59.05 فیصد اضافے کے ساتھ 1.33 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جبکہ اس مدت کے دوران یو کے پاکستان کی تیسری بڑی برآمدی منڈی رہا اور زیر جائزہ مدت کے دوران برآمدات 956.524 ملین ڈالرسے بڑھ کر 19.79 فیصد اضافے کے ساتھ 1.14 بلین ڈالر ہو گئیں۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، جرمنی، ہالینڈ، اسپین، افغانستان، بنگلہ دیش کو برآمدات میں معمولی اضافہ ہوا تاہم سعودی عرب اور کینیڈا کو برآمدات میں قدرے کمی دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کا نجی شعبہ پاکستان کے مختلف شعبوں میں مزید براہ راست یا بالواسطہ سرمایہ کاری کریں کیونکہ وزیراعظم عمران خان نے ون ونڈو پالیسی کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مراعات کا بہترین تاریخی پیکج دیا ہے اور تمام غیر ملکی سرمایہ کاری کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ممبر ایگزیکٹو کمیٹی لاہور چیمبر شاہد نذیر نے کہا کہ اس وقت تقریباً 3 ہزار پاکستانی مصنوعات 202 ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں اور 40.07 بلین ڈالر کی 4200 مصنوعات 212 ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں۔