ٹرمپ اور پیوٹن کا ڈیڑھ گھنٹے طویل ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ پر تبادلۂ خیال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے طویل ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں یوکرین جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا

واشنگٹن۔5جولائی (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے طویل ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں یوکرین جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ العربیہ اردو نے کریملن کے حوالے سے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تقریباً ایک گھنٹہ 25 منٹ تک ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی جس میں یوکرین کی جنگ اور اس سے متعلق پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔یہ رابطہ نیٹو کے آئندہ سربراہی اجلاس سے قبل ہوا۔روسی صدر کے معاون برائے خارجہ امور یوری اوشاکوف نے بتایا کہ صدر پیوٹن نے گفتگو کے دوران یوکرین جنگ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ صدر ٹرمپ نے ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اس تنازعہ کے خاتمے میں مدد کی پیشکش کی۔اوشاکوف کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے بھی ماسکو کے دورے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔دوسری جانب ایک باخبر ذریعے نے روسی خبر رساں ایجنسی ”تاس” کو بتایا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اگست کے اختتام سے پہلے روس کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی کسی حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ۔ دوسری جانب ، یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امریکی یومِ آزادی (4 جولائی) کی تعطیل کے دوران ٹیلیفون پر گفتگو کی جس میں یوکرین جنگ کی تازہ صورتحال اور اس کے خاتمے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔زیلنسکی نے اس گفتگو کو ”انتہائی اچھی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے محاذِ جنگ کی صورتحال پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا حقیقی امکان موجود ہے اور اس مقصد کے لیے امریکی عزم فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے اس ہفتے ترکیہ میں ہونے والے نیٹو کے سربراہی اجلاس کے موقع پر اپنی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔واضح رہے کہ نیٹو کا 36واں سربراہی اجلاس 7 اور 8 جولائی 2026 کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہو گا جہاں یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور یورپی دفاعی منصوبوں سے متعلق اہم جغرافیائی و سیاسی معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔نیٹو حکام کے مطابق زیلنسکی اتحاد کے رہنماؤں کے عشائیے میں شرکت کریں گے تاہم وہ مرکزی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد یوکرین کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے ساتھ ممکنہ اختلافات سے گریز کرنا ہے۔