فیصل آباد ۔ 23 اکتوبر (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں جمعرات کے روز ایک روزہ زرعی میلہ کا انعقاد کیا گیاجس میں جدید زرعی آلات، زرعی و لائیو اسٹاک ٹیکنالوجیز اور اسمارٹ فارمنگ کے ساز و سامان کی نمائش کی گئی اور دیہی ثقافت کو اجاگر کیا گیا۔ ایگری ٹورازم کلب سینئر ٹیچر آفس کے زیر اہتمام میلے کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر …
جامعہ زرعیہ میں جدید ٹیکنالوجی کو کسانوں تک پہنچانے کے حوالہ سے ایک روزہ زرعی میلہ کا انعقاد
فیصل آباد ۔ 23 اکتوبر (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں جمعرات کے روز ایک روزہ زرعی میلہ کا انعقاد کیا گیاجس میں جدید زرعی آلات، زرعی و لائیو اسٹاک ٹیکنالوجیز اور اسمارٹ فارمنگ کے ساز و سامان کی نمائش کی گئی اور دیہی ثقافت کو اجاگر کیا گیا۔ ایگری ٹورازم کلب سینئر ٹیچر آفس کے زیر اہتمام میلے کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی کو ہماری ثقافت اور دیہی و زرعی ترقی کا امین تصور کیا جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کو کاشتکاروں تک پہنچانے کے لئے یہ جامعہ ہر سال کسان میلہ کا انعقاد کرتی ہے تاکہ جدید رحجانات کو فروغ دے کر فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی تربیت یافتہ افرادی قوت، تحقیقی امور، آؤٹ ریچ اور اکیڈمیا انڈسٹری روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے کاشتکاروں اور زراعت کو حقیقی مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر پنجاب چیریٹی کمیشن کرنل (ریٹائرڈ) شہزاد عامر، چیف ٹیکنالوجی آفیسر ناصر جاوید، ڈین ایگریکلچر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ، ڈین اینیمل ہسبینڈری ڈاکٹر قمر بلال، ڈین سائنسز ڈاکٹر عامر جمیل، ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر وقاص وکیل، ڈین ویٹرنری سائنسز ڈاکٹر شاہد محمود، ڈین فوڈ سائنسز ڈاکٹر عمران پاشا، ڈین آرٹ اینڈ ہیومینیٹیز ڈاکٹر شازیہ رمضان، ڈاکٹر ریاض ورک، ڈاکٹر وسیم اکرم، ڈاکٹر عبد الناصر، ڈاکٹر آصف کامران، ڈاکٹر بابر شہباز، ڈاکٹر شوکت علی، ڈاکٹر عمیر گل اور دیگر نےزرعی میلہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر کرنل (ر) شہزاد عامر نے میلہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکیڈمیا، صنعت، کسان برادری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط روابط ناگزیر ہیں تاکہ اس شعبے کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے زرعی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بطور قوم ہمیں معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ناصر جاوید نے زرعی میلے کے انعقاد پر زرعی یونیورسٹی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام کسانوں، محققین اور صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے اور پائیدار زرعی ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے کہا کہ زرعی ترقی کا دار و مدار سائنسی اختراعات اور جدید ٹیکنالوجیز کے اپنانے پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی تحقیق، تربیت اور عوامی رابطے کے ذریعے اسمارٹ فارمنگ کو پروان چڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ڈاکٹر قمر بلال نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو کھیتوں تک پہنچا کر ہم پیداوار میں اضافہ، پائیداری کو یقینی اور کسانوں کو علم کے ذریعے بااختیار بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے جدید لائیو اسٹاک مینجمنٹ کے طریقوں کو اپنانے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کسانوں پر زور دیا کہ وہ زراعت اور لائیو اسٹاک میں بہتری لانے کے لیے جدید آلات کے استعمال کو اپنائیں۔









