جاپان ، شمالی صوبے اکیٹا میں ریچھوں کے بڑھتے حملوں پر قابو پانے کے لیے فوجی دستے تعینات

ٹوکیو۔6نومبر (اے پی پی):جاپان نے شمالی صوبے اکیٹا کے پہاڑی علاقوں میں ریچھوں کے بڑھتے حملوں پر قابو پانے کے لیے وہاں فوجی دستے تعینات کر دیے ۔ڈی ڈبلیو این نے جاپانی وزارت ماحولیات کے حوالے سے بتایا کہ اپریل سے اب تک ریچھوں کے ایسے حملوں میں 12 افراد مارے جا چکے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ بھورے اور سیاہ ریچھ سردیوں کی نیند (ہائبرنیشن)سے قبل خوراک …

ٹوکیو۔6نومبر (اے پی پی):جاپان نے شمالی صوبے اکیٹا کے پہاڑی علاقوں میں ریچھوں کے بڑھتے حملوں پر قابو پانے کے لیے وہاں فوجی دستے تعینات کر دیے ۔ڈی ڈبلیو این نے جاپانی وزارت ماحولیات کے حوالے سے بتایا کہ اپریل سے اب تک ریچھوں کے ایسے حملوں میں 12 افراد مارے جا چکے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

بھورے اور سیاہ ریچھ سردیوں کی نیند (ہائبرنیشن)سے قبل خوراک کی تلاش میں اکثر رہائشی علاقوں، سکولوں، ریلوے سٹیشنوں، سپر مارکیٹوں اور حتیٰ کہ گرم پانی کے چشموں والی ریزارٹس تک پہنچ رہے ہیں۔حکام کے مطابق جاپان میں ریچھوں کی آبادی 54 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ انسانوں کی مقامی آبادی کے تیزی سے بوڑھے ہونے اور شکاریوں کی کمی نے بھی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔

وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ فوجی ریچھوں پر گولیاں نہیں چلائیں گے بلکہ وہ جال لگا کر انہیں پکڑنے، مقامی شکاریوں کی مدد اور مردہ ریچھوں کو ٹھکانے لگانے میں تعاون کریں گے۔ اکیٹا کے گورنر کینتا سوزوکی نے کہا کہ عملے کی کمی کے باعث مقامی حکام انتہائی پریشان ہیں۔ نائب کابینہ سیکرٹری فومیتوشی ساٹو کے مطابق روزانہ ریچھ رہائشی علاقوں میں گھس رہے ہیں، اس کا فوری حل نکالنا ضروری ہے۔اکیٹا میں مئی سے اب تک ریچھ 50 سے زائد افراد پر حملے کر چکے ہیں جن میں سے کم از کم چار افراد ہلاک ہو ئے، زیادہ تر واقعات رہائشی علاقوں میں پیش آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریچھوں کی بڑھتی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے انہیں تلفی کے ذریعے محدود کرنا ناگزیر ہے۔ جاپانی حکومت نے ریچھوں کے خلاف مؤثر حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم کی ہے جو نومبر کے وسط تک اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

مزید خبریں