جب ٹھان لیا تو ٹھان لیا، جو کہا عملاً کر دکھایا، بلوچستان ترقی کی پرواز بھر چکا ، اب کوئی اس پرواز کو نہیں روک سکتا، وزیر اعلیٰ بلوچستان

جب ٹھان لیا تو ٹھان لیا، جو کہا عملاً کر دکھایا، بلوچستان ترقی کی پرواز بھر چکا ، اب کوئی اس پرواز کو نہیں روک سکتا، وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ۔ 21 جون (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے عوام سے جو وعدے کیے تھے ان کی تکمیل کرکے ثابت کیا ہے کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو کوئی ہدف ناممکن نہیں رہتا۔ بلوچستان ترقی، اصلاحات، میرٹ، گڈ گورننس اور امن و استحکام کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے اور اب اس ترقی کے سفر کو کوئی نہیں روک سکتا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ کی منظوری کے بعد اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر کا آغاز اس شعر سے کیاجب آنکھوں میں ارمان لیا، منزل کو اپنا مان لیا، پھر مشکل اور آسان ہے کیا، جب ٹھان لیا بس ٹھان لیا۔

انہوں نے کہا کہ یہی شعر ان کی کابینہ اور عوامی حکومت کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے عوام سے مختلف وعدے اور دعوے کیے تو ناقدین اور مخالفین نے طنز کے نشتر برسائے ، تاہم ان کی حکومت نے ثابت کیا کہ جو وعدہ کیا جاتا ہے اسے پورا بھی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر ٹھان لیا ہے تو ٹھان لیا ہے” ہماری حکومت کا عملی شعار ہے وزیر اعلیٰ نے رواں مالی سال کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایوان سے وعدہ کیا تھا کہ بلوچستان کا کوئی بھی اسکول بند نہیں رہے گا۔ آج صوبے کے 15 ہزار 370 اسکولوں میں سے 15 ہزار فعال ہیں جبکہ 370 اسکول صرف اس وجہ سے بند ہیں کیونکہ وہ غلط مقامات پر تعمیر کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 14 ہزار اساتذہ کی شفاف بھرتی، 3 ہزار 200 سے زائد اسکولوں کی بحالی اور 7 لاکھ 20 ہزار بچوں کا داخلہ کسی خواب کی تعبیر نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعداد میں 14 فیصد کمی آئی ہے، ڈراپ آؤٹ ریٹ میں 5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ تعلیم مکمل کیے بغیر اسکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح میں 11 فیصد کمی آئی ہے۔ یوتھ لٹریسی ریٹ 49 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے صحت کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2 ہزار 800 سے زائد طبی عملے کی بھرتی کی گئی، 4 ہزار 519 ڈاکٹروں کو ترقی دی گئی، 164 بنیادی مراکز صحت فعال بنائے گئے اور او پی ڈی میں 10 لاکھ مریضوں کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں جدید ٹراما سینٹر کام شروع کرچکا ہے، کینسر انسٹیٹیوٹ مکمل ہوچکا ہے، سیٹلائٹ ٹیلی میڈیسن سروس کا آغاز ہوچکا ہے، تمام فارمیسیز کو ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے جبکہ بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز اور بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نیورو سرجری اینڈ نیورولوجی افتتاح کے لیے تیار ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ادویات کی دستیابی کی شرح 46 فیصد سے بڑھ کر 89 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ زچہ و بچہ مراکز میں ضروری سامان کی دستیابی 11 فیصد سے بڑھ کر 86 فیصد ہوگئی ہے، ایمرجنسی ادویات کی دستیابی 94 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ زچہ و بچہ کی بنیادی سہولیات 4 فیصد سے بڑھ کر 83 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نومبر 2024 کے بعد صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ ویکسی نیشن کی شرح 38 فیصد سے بڑھ کر 56 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ان کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو کوئٹہ کے سرکاری دفاتر میں حاضری کی شرح 45 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 82 فیصد ہوگئی ہے جبکہ صحت مراکز میں حاضری 80 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ فائلوں پر فیصلوں کا دورانیہ 92 دن سے کم ہوکر اوسطاً 13 دن رہ گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کے استعمال کی شرح 100 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ ماضی میں یہ شرح 65 فیصد سے زیادہ نہیں تھی ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے ڈیجیٹلائزیشن اور میرٹ کو اپنی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا ہے کیونکہ میرٹوکریسی ہی ترقی کا واحد راستہ ہے اور اسی کے ذریعے نوجوانوں کا اعتماد بحال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے آئندہ چند ماہ میں مکمل ہونے والے بڑے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ پیپلز ٹرین منصوبہ جلد سریاب سے کچلاک تک میٹرو طرز کی ٹرین سروس کی شکل اختیار کرے گا۔ پورے صوبے میں فائبر آپٹک نیٹ ورک پھیلایا جائے گا، تمام اضلاع میں منڈیاں اور اڈے فعال ہوں گے، تین ہزار اسکولوں میں دو اضافی کمروں کی تعمیر ہوگی، پانچ سو سے زائد بنیادی مراکز صحت میں ٹیلی میڈیسن سروس شروع ہوگی جس سے 85 فیصد خواتین مستفید ہوں گی، ایک ہزار سے زائد مڈل اور ہائی اسکول اپ گریڈ کیے جائیں گے، دور دراز علاقوں کے لیے سولر گرڈ منصوبے شروع کیے جائیں گے، تمام میونسپل کمیٹیوں کو صفائی کے آلات فراہم کیے جائیں گے، 400 سے زائد یونین کونسل دفاتر تعمیر کیے جائیں گے اور ہر یونین کونسل میں صاف پانی کی اسکیم کا آغاز کیا جائے گا ۔

انہوں نے اعلان کیا کہ بلوچستان کی بیٹیوں کے لیے یکم جولائی سے خصوصی اسکالرشپ پروگرام شروع کیا جارہا ہے اور کہا کہ بلوچستان کی بیٹیاں انہیں بلوچستان کے بیٹوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست نے کبھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے لیکن دہشت گرد تنظیموں سے مذاکرات ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا میں جہاں بھی کامیاب مذاکرات ہوئے وہ سیاسی جماعتوں اور آئین و قانون کو تسلیم کرنے والی قوتوں کے ساتھ ہوئے۔

اگر کوئی سیاسی قوت آئین پاکستان اور قانون کو تسلیم کرتی ہے تو حکومت اس سے مذاکرات کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک روشن مستقبل کی جانب پرواز کرچکا ہے اور دشمن قوتیں اس سے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض بیرونی عناصر بھی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کررہے ہیں اور اگر ان کی سرپرستی ختم ہوجائے تو یہ تنظیمیں بہت جلد ماضی کا حصہ بن جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی تبدیل کردی ہے۔ ایک طرف دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف عوامی خدمت اور گڈ گورننس کے ذریعے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مضبوط کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر تشدد اور بدامنی کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں اور کبھی یہ تسلیم نہیں کرسکتے کہ کوئی گروہ بندوق کے زور پر ریاست سے اپنی بات منوائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بلوچستان میں مکمل امن قائم ہوگا اور وہ اپنی آخری سانس تک پاکستان دشمن عناصر کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گرد کسی پنجابی، سندھی، بلوچ یا پشتون کو نہیں بلکہ پاکستانیوں کو شہید کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہر وہ قدم اٹھا رہی ہے جو صوبے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے۔ بلوچستان ترقی کی پرواز بھر چکا ہے، اب کوئی اس پرواز کو نہیں روک سکتا کیونکہ ہم حق، قانون اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنی تقریر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید ہمیشہ زندہ رہتا ہے، شہداء کے لواحقین کو تنا نہیں چھوڑیں گے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سی ٹی ڈی ، اے ٹی ایف ، ایس او ڈبلیو کی تنخواہوں میں دس فیصد ،شہداء معاوضے میں سو فیصد جبکہ سویلین شہداء کے معاوضے میں بھی دس لاکھ روپے اضافے کا اعلان کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریر کے اختتام پر "بلوچستان کا عہد” کے عنوان سے نظم پیش کی جس میں دہشت گردی کے خاتمے، شہداء کے خون سے وفاداری، امن کے قیام، تعلیم کے فروغ اور پاکستان کی سربلندی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ انہوں نے اس عہد کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی اور تاریخ گواہی دے گی کہ قوم نے اندھیروں، دہشت اور نفرت کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آخرکار فتح امن اور پاکستان کی ہوئی۔

مزید خبریں