جدت پسندی کو فروغ دینے والے ذمہ دار، شفاف اور منظم ڈیجیٹل اثاثوں کے نظام کو تیار کرنے کی ضرورت ہے، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی بلال بن ثاقب سے ملاقات میں گفتگو
جدت پسندی کو فروغ دینے والے ذمہ دار، شفاف اور منظم ڈیجیٹل اثاثوں کے نظام کو تیار کرنے کی ضرورت ہے، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی بلال بن ثاقب سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے مناسب حفاظتی اقدامات کو برقرار رکھتے ہوئے جدت پسندی کو فروغ دینے والے ذمہ دار، شفاف اور منظم ڈیجیٹل اثاثوں کے نظام کو تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیاہے۔انہوں نے یہ بات منگل کو یہاں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب سے ملاقات میں کہی۔ بلال بن ثاقب نے وزیر خزانہ کو اپنے حالیہ دورہ ہانگ کانگ اور وہاں ہونے والی مصروفیات کے بارے میں بریفنگ دی۔
بلال بن ثاقب نے وزیر خزانہ کو ہانگ کانگ کے پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں بشمول فنانشل سروسز اینڈ ٹریژری بیورو، ہانگ کانگ مانیٹری اتھارٹی اور سکیورٹیز اینڈ فیوچرز کمیشن کے ساتھ ہونے والی تعمیری بات چیت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ان ملاقاتوں میں پاکستان کے لیے موزوں معلومات کے تبادلے، تجربات اور کامیاب کاروباری ماڈلز پر غور کیا گیا۔گفتگو کا محور ورچوئل اثاثہ جات اور ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں ابھرتے ہوئے مواقع تھے جن میں مالیاتی منڈیوں میں بلاک چین اور ٹوکنائریشن ٹیکنالوجیز کے ممکنہ استعمال پر خاص طور پر بات کی گئی۔
اس کے علاوہ ڈیجیٹل اثاثوں، سٹیبل کوائنز ، ریگولیٹری قوانین کی پاسداری اور ڈیجیٹل مالیاتی بنیادی ڈھانچے سے متعلق بین الاقوامی طریقوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی نے وزیر خزانہ کو ہانگ کانگ کے پالیسی سازوں کے ساتھ بات چیت کے دوران سامنے آنے والے اہم نکات اور تجربات سے آگاہ کیا اور پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کے ابھرتے ہوئے نظام کے لیے ان کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے ڈیجیٹل مالیاتی مصنوعات، ٹوکنائزیشن اور ادارہ جاتی تعاون کے ممکنہ شعبوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔وزیر خزانہ نے بریفنگ کو سراہا اور ایسے ذمہ دار، شفاف اور منظم ڈیجیٹل اثاثوں کے نظام کو تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو مناسب حفاظتی اقدامات کو برقرار رکھتے ہوئے جدت پسندی کو فروغ دے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی پالیسی سازوں اور اداروں کے ساتھ رابطوں کی کوششوں کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ ان روابط کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے عملی طریقے اور مواقع تلاش کیے جائیں جو پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی ترقی میں معاون ثابت ہو سکیں۔








